السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن تلقي السلع باب: تجارتی سامان لے کر آنے والوں سے (منڈی پہنچنے سے پہلے) آگے بڑھ کر ملنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10914
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَزِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، لَفْظُهُ، قَالُوا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " مَا قَوْلُهُ: لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر ملا جائے اور شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اس قول «لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ» ”کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے“ کا کیا معنی ہے؟ فرمانے لگے کہ وہ اس کا دلال نہ بنے۔