أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي زَكَرِيَّا -: " لَا يَبِيعُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرو۔“ ابوزکریا کی روایت میں ہے کہ ”وہ بیع نہ کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعَنَّ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَيَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ ہی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے مگر اس کی اجازت سے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتُكْفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھاؤ نہ بڑھاؤ، اور شہری دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے، اور کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ ہی اس کی منگنی پر منگنی کا پیغام دے، اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے تاکہ وہ انڈیل دے جو اس کے برتن میں ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنا أَبُو يَعْلَى، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا سُفْيَانُ. فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ: " وَلَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ "، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ بِزِيَادَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان اپنی سند سے اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو خبر ملی اور اس میں اضافہ ہے کہ ”کوئی آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَقَدْ حَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى مَنِ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً فَلَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى أَتَاهُ آخَرُ فَعَرَضَ عَلَيْهِ مِثْلَ سِلْعَتِهِ، أَوْ خَيْرًا مِنْهَا بِأَقَلَّ مِنَ الثَّمَنِ، فَيَفْسَخُ بَيْعَ صَاحِبِهِ فَإِنَّ لَهُ الْخِيَارَ قَبْلَ التَّفَرُّقِ، فَيَكُونُ هَذَا فَسَادًا وَقَدْ عَصَى اللهَ إِذَا كَانَ بِالْحَدِيثِ عَالِمًا، وَالْبَيْعُ فِيهِ لَازِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے سامان خریدا، ابھی تک دونوں جدا نہ ہوئے تھے کہ دوسرا آگیا، اس نے سامان پیش کر دیا، اس جیسا یا اس سے بہتر کم قیمت میں، وہ اپنے ساتھی کی بیع کو فسخ کر دیتا ہے، جدا ہونے سے پہلے اس کو اختیار ہے، یہ خرابی ہے اور اس نے اللہ کی نافرمانی کی جبکہ وہ حدیث کو جانتا تھا، اور بیع لازم ہوگی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے سامان خریدا، ابھی تک دونوں جدا نہ ہوئے تھے کہ دوسرا آگیا، اس نے سامان پیش کر دیا، اس جیسا یا اس سے بہتر کم قیمت میں، وہ اپنے ساتھی کی بیع کو فسخ کر دیتا ہے، جدا ہونے سے پہلے اس کو اختیار ہے، یہ خرابی ہے اور اس نے اللہ کی نافرمانی کی جبکہ وہ حدیث کو جانتا تھا، اور بیع لازم ہوگی۔