السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يبيع بعضكم على بيع بعض باب: ”تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے“۔
حدیث نمبر: 10890
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتُكْفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھاؤ نہ بڑھاؤ، اور شہری دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے، اور کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ ہی اس کی منگنی پر منگنی کا پیغام دے، اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے تاکہ وہ انڈیل دے جو اس کے برتن میں ہے۔“