السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يبيع بعضكم على بيع بعض باب: ”تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے“۔
حدیث نمبر: 10892
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَقَدْ حَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَى مَنِ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً فَلَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى أَتَاهُ آخَرُ فَعَرَضَ عَلَيْهِ مِثْلَ سِلْعَتِهِ، أَوْ خَيْرًا مِنْهَا بِأَقَلَّ مِنَ الثَّمَنِ، فَيَفْسَخُ بَيْعَ صَاحِبِهِ فَإِنَّ لَهُ الْخِيَارَ قَبْلَ التَّفَرُّقِ، فَيَكُونُ هَذَا فَسَادًا وَقَدْ عَصَى اللهَ إِذَا كَانَ بِالْحَدِيثِ عَالِمًا، وَالْبَيْعُ فِيهِ لَازِمٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے سامان خریدا، ابھی تک دونوں جدا نہ ہوئے تھے کہ دوسرا آگیا، اس نے سامان پیش کر دیا، اس جیسا یا اس سے بہتر کم قیمت میں، وہ اپنے ساتھی کی بیع کو فسخ کر دیتا ہے، جدا ہونے سے پہلے اس کو اختیار ہے، یہ خرابی ہے اور اس نے اللہ کی نافرمانی کی جبکہ وہ حدیث کو جانتا تھا، اور بیع لازم ہوگی۔