السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: النهي عن بيعتين في بيعة باب: ایک ہی بیع میں دو بیع (دو سودے یا دو شرطیں) کرنے کی ممانعت کا بیان۔
وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حُكُومَةً فِي شَيْءٍ بِعَيْنِهِ كَأَنَّهُ أَسْلَفَ دِينَارًا فِي قَفِيزِ بُرٍّ إِلَى شَهْرٍ، فَلَمَّا حَلَّ الْأَجَلُ وَطَالَبَهُ بِالْبُرِّ، قَالَ لَهُ: بِعْنِي الْقَفِيزَ الَّذِي لَكَ عَلَيَّ بِقَفِيزَيْنِ إِلَى شَهْرَيْنِ، فَهَذَا بَيْعٌ ثَانٍ قَدْ دَخَلَ عَلَى الْبَيْعِ الْأَوَّلِ، فَصَارَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَيُرَدَّانِ إِلَى أَوْكَسِهِمَا وَهُوَ الْأَصْلُ فَإِنْ تَبَايَعَا الْبَيْعَ الثَّانِيَ قَبْلَ أَنْ يَتَنَاقَضَا الْبَيْعَ الْأَوَّلَ كَانَا مُرْبِيَيْنِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایک بیع میں دو بیعیں کیں تو اس کے لیے دونوں میں سے کم والی ہے یا پھر سود ہے۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو سلیمان کی کتاب میں اس حدیث کی تفسیر پڑھی: یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص معاملے کا حکم ہے، گویا کسی نے ایک مہینہ کی مدتِ مقررہ تک گندم کے ایک قفیز کے بدلے ایک دینار پیشگی دے دیا۔ جب مدت مکمل ہوئی اس نے گندم کا مطالبہ کر دیا تو لینے والے نے کہا: وہ قفیز گندم کا جو میرے اوپر قرض تھا وہ مجھے دو قفیزوں کے بدلے دو ماہ کی مدت تک فروخت کر دو۔ یہ دوسری بیع ہے جو پہلی بیع میں شامل ہو گئی تو یہ ایک بیع میں دو بیوع ہیں۔ یہ کمی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے، یعنی اصل کی طرف۔ اگر وہ پہلی بیع کو ختم کرنے سے پہلے دوسری بیع کرتے ہیں تو دونوں سود خور ہیں۔