حدیث نمبر: 10827
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ وَكِيعٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شروط کتاب اللہ میں نہیں اگر وہ سو بھی ہوں تو باطل ہیں۔“
حدیث نمبر: 10828
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مِنْهَالٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے قرض اور بیع، ایک بیع میں دو شرطیں کرنے، ایسی چیز کو فروخت کرنے جو آپ کے پاس نہ ہو، اور اس چیز کے نفع سے فائدہ اٹھانے جس کے نقصان کی ذمہ داری نہ ہو، سے منع فرمایا ہے۔“
حدیث نمبر: 10829
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اشْتَرَى جَارِيَةً مِنِ امْرَأَتِهِ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ فَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّكَ إِنْ بِعْتَهَا فَهِيَ لِي بِالثَّمَنِ الَّذِي تَبِيعُهَا بِهِ، فَاسْتَفْتَى فِي ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " لَا تَقْرَبْهَا وَفِيهَا شَرْطٌ لِأَحَدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے ایک لونڈی خریدی، اس نے شرط لگا دی کہ اگر آپ اس کو فروخت کرنا چاہیں تو اتنی قیمت مجھ سے لے لیں جتنی میں آپ فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے اس کے بارے میں کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فتویٰ طلب کیا تو فرمانے لگے: اس کے قریب نہ جانا کیونکہ اس میں کسی کے لیے شرط ہے۔
حدیث نمبر: 10830
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " لَا يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً إِلَّا وَلِيدَةً إِنْ شَاءَ بَاعَهَا، وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی لونڈی سے مجامعت نہ کرے، اگر فروخت کرنا چاہے یا ہبہ کرنا چاہے یا جو چاہے کرے۔
حدیث نمبر: 10831
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ ⦗٥٤٩⦘ كَانَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَطَأَ فَرْجًا إِلَّا فَرْجًا إِنْ شَاءَ وَهَبَهُ، وَإِنْ شَاءَ بَاعَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَعْتَقَهُ لَيْسَ فِيهِ شَرْطٌ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”کوئی آدمی لونڈی سے مجامعت نہ کرے، اگر ہبہ کرنا چاہے، فروخت کرنا چاہے اور چاہے تو آزاد کر دے، اس میں کوئی شرط نہیں ہے۔“