کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے ساتھ خرید و فروخت کرنے کی کراہت جس کا اکثر مال سود یا حرام چیزوں کی قیمت پر مشتمل ہو۔
حدیث نمبر: 10816
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَاللهِ لَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ مُشْتَبِهَاتٍ "، وَرُبَّمَا قَالَ: " أُمُورًا مُشْتَبِهَةً "، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى " قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: " أَوْشَكَ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ " قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَمْ شَيْءٌ قَالَهُ الشَّعْبِيُّ ⦗٥٤٦⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، ان کے بعد میں نے کسی سے نہیں سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حلال و حرام واضح ہے اور جو ان کے درمیان ہے وہ مشتبہ ہے“ اور بعض اوقات کہا کہ ”مشتبہ امور ہیں۔ عنقریب میں تمہارے لیے ایک مثال بیان کروں گا کہ بیشک اللہ رب العزت نے ایک چراگاہ مقرر کی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں اور جو چراگاہ کے اردگرد چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ چراگاہ میں داخل ہو جائے“ راوی کہتے ہیں: بعض اوقات فرمایا کہ ”وہ چراگاہ میں چرے اور جو شک میں پڑ جاتا ہے، قریب ہے کہ وہ دلیر ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث میں کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " حَلَالٌ بَيِّنٌ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلَكٍ حِمًى، وَحِمَى اللهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ منبر پر فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”حلال و حرام واضح ہے اور اس کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں، جس نے گناہ سے مشابہ چیز کو چھوڑ دیا اس وجہ سے جو چیز اس سے زیادہ ظاہر تھی اور جس نے مشکوک چیز پر جرات کی، قریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہو جائے اور بیشک ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ زمین میں اس کی نافرمانیاں ہیں۔“
حدیث نمبر: 10818
حَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي، أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا؛ لِآكُلَهَا ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأُلْقِيَهَا "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ مُنَبِّهٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے گھر واپس آتا ہوں، میں اپنے بستر یا گھر ایک کھجور گری پڑی دیکھتا ہوں تاکہ اٹھا کر کھا لوں، لیکن پھر ڈر جاتا ہوں کہیں صدقہ کی نہ ہو، میں اس کو پھینک دیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 10819
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ: " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو الحوراء کہتے ہیں: میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا نبی ﷺ سے کچھ یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی اطمینان کا باعث ہے جبکہ جھوٹ شک کا سبب ہے۔“
حدیث نمبر: 10820
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، وَعَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَا لَا بَأْسَ بِهِ؛ حَذَرًا لِمَا بِهِ الْبَأْسُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ نیک لوگوں کے مرتبہ کو حاصل نہیں کر سکتا، جب تک بے ضرر چیزوں سے نہ بچے اور ضرر دینے والی اشیاء بدرجہ اولیٰ نہ چھوڑ دے۔“
حدیث نمبر: 10821
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ ⦗٥٤٧⦘ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَكَانَ فِي آخِرِ مَا حَفِظْتُ أَنْ قَالَ: " إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ إِلَّا أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حمید بن ہلال رحمہ اللہ اپنی قوم کے ایک دیہاتی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سکھاؤ۔ جو میں نے یاد کیا اس کے آخر میں تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب آپ اللہ کے ڈر سے کوئی چیز چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ اس کے بدلے اس سے بہتر چیز عطا کردیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 10822
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ أَبِي جَلَّابُ الْغَنَمِ وَإِنَّهُ مُشَارِكٌ الْيَهُودِيَّ وَالنَّصْرَانِيَّ، قَالَ: " لَا نُشَارِكْ يَهُودِيًّا، وَلَا نَصْرَانِيًّا، وَلَا مَجُوسِيًّا "، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: " لِأَنَّهُمْ يُرْبُونَ وَالرِّبَا لَا يَحِلُّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حمزہ عمران بن ابی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میرا والد بکریوں کا تاجر ہے، وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے شراکت کرتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم یہودی، عیسائی اور مجوسی سے شراکت نہیں رکھتے، میں نے کہا: کیوں؟ اس لیے کہ وہ سود لیتے ہیں اور سود جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، سَمِعَ رَجُلًا، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ: إِنَّ لِي جَارًا يَأْكُلُ الرِّبَا، أَوْ قَالَ: خَبِيثُ الْكَسْبِ، وَرُبَّمَا دَعَانِي لِطَعَامِهِ أَفَأُجِيبُهُ؟، قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن عبداللہ نے ایک آدمی کو سنا، اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہمارا ہمسایہ سود کھاتا ہے یا اس کی کمائی حرام کی ہے اور بعض اوقات مجھے کھانے کی دعوت دیتا ہے، کیا میں قبول کر لیا کروں؟ فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 10824
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ جَوَّابٍ التَّمِيمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ شَيْئًا إِلَّا خَبَثًا، أَوْ حَرَامًا وَأَنَّهُ يَدْعُونِي، فَأُحْرَجُ أَنْ آتِيَهُ وَأَتَحَرَّجُ أَنْ لَا آتِيَهُ، فَقَالَ: " ائْتِهِ، أَوْ أَوْجِبْهُ فَإِنَّمَا وِزْرُهُ عَلَيْهِ " قَالَ الشَّيْخُ: جَوَّابٌ التَّيْمِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهَذَا إِذَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّ الَّذِي قُدِّمَ إِلَيْهِ حَرَامٌ فَإِذَا عَلِمَ حَرَامًا لَمْ يَأْكُلْهُ، كَمَا لَمْ يَأْكُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي قُدِّمَتْ إِلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میرا ایک ہمسایہ ہے مجھے تو اس کی کمائی حرام یا خبیث کا علم ہی ہے، وہ مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے پاس کھانا کھاؤں لیکن میں ممنوع خیال کرتا ہوں اس کے پاس آنے کو اور میں پریشانی سے بچنا چاہتا ہوں کہ میں نہ آؤں۔ انہوں نے کہا: تم اس کی دعوت قبول کرو، اس کا گناہ اس پر ہے۔
نوٹ: یہ اس وقت ہے جب اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کو حرام پیش کیا گیا ہے لیکن جب معلوم ہو کہ حرام ہے پھر نہ کھائے جیسے رسول اللہ ﷺ نے بکری کو کھانے سے انکار کر دیا تھا۔
نوٹ: یہ اس وقت ہے جب اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کو حرام پیش کیا گیا ہے لیکن جب معلوم ہو کہ حرام ہے پھر نہ کھائے جیسے رسول اللہ ﷺ نے بکری کو کھانے سے انکار کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 10825
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، أنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ: " أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ " فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ فَجَاءَ وَجِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ، فَأَكَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا " فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي لِي شَاةً فَلَمْ تُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلِيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْعِمِيهِ الْأُسَارَى ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ انصار کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ قبر کھودنے والے کو نصیحت فرما رہے تھے: ”پاؤں اور سر کی جانب سے وسیع کرو۔“ جب آپ ﷺ واپس لوٹے تو ایک عورت نے دعوت دی، آپ ﷺ تشریف لائے، کھانا لایا گیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور لوگوں نے بھی کھانا شروع کیا، ہمارے آباء نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لقمے کو منہ میں چبا رہے ہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ گوشت ایسی بکری کا ہے جو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے۔“ اس عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بقیع میں کسی کو بکری خریدنے بھیجا تھا، لیکن بکری نہ ملی، پھر میں نے اپنے ہمسائے کی جانب کسی کو بھیجا کہ وہ اتنی قیمت کی بکری لے کر دے لیکن نہ ملی، پھر میں نے اس کی عورت کی طرف کسی کو روانہ کیا تو اس نے بکری لا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(یہ کھانا) قیدیوں کو کھلا دو۔“
حدیث نمبر: 10826
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ السُّلَمِيُّ، ثنا ⦗٥٤٨⦘ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ شُرَحْبِيلَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى سَرِقَةً وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ فَقَدْ أُشْرِكَ فِي عَارِهَا وَإثْمِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”جس نے چوری والی بکری خریدی اور وہ جانتا ہے کہ یہ چوری کی ہے، وہ اس کی عار اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔“
(ب) مصعب بن محمد بن شرحبیل اہل مدینہ کے ایک شیخ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چوری کی بکری خریدی اور وہ جانتا ہے کہ چوری کی ہے، وہ اس کی عار اور گناہ میں شریک ہے۔“
(ب) مصعب بن محمد بن شرحبیل اہل مدینہ کے ایک شیخ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چوری کی بکری خریدی اور وہ جانتا ہے کہ چوری کی ہے، وہ اس کی عار اور گناہ میں شریک ہے۔“