کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس شخص نے کوئی جانور یا کوئی اور چیز بیچی اور ایک مقررہ مدت تک اس کے منافع کا اپنے لیے استثناء کر لیا۔
حدیث نمبر: 10832
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ بَحْرٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ "، وَقَالَ الْآخَرُ: " عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور معاومہ سے منع فرمایا ہے“ اور دوسرے نے کہا کہ ”سالوں کی بیع اور ثنیا سے بھی منع فرمایا ہے اور عرایا میں رخصت دی ہے۔“
حدیث نمبر: 10833
وَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ الْحَنْظَلِيُّ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن زید نے اس کے مثل ذکر کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو ”منع فرمایا۔“
حدیث نمبر: 10834
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الْحَرْبِيَّةِ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ الْقُرَشِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْطَى امْرَأَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ، فَبَاعَتْهَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ خِدْمَتَهَا فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَرَيْتَ جَارِيَةَ امْرَأَتِكَ فَاشْتَرَطَتْ عَلَيْكَ خِدْمَتَهَا؟ " فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: " لَا تَشْتَرِهَا وَفِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ " وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لَا تَقَعَنَّ عَلَيْهَا وَلِأَحَدٍ فِيهَا شَرْطٌ "، وَرَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُرْسَلًا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَالِكَ مَا كَانَ فِيهِ مَثْنَوِيَّةٌ لِغَيْرِكَ "، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَرِهَتِ الشَّرْطَ فِي الْخَادِمِ أَنْ يُبَاعَ، أَوْ يُوهَبَ بِشَرْطٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی کو خمس سے ایک لونڈی دی، اس نے وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ایک ہزار درہم میں فروخت کر دی اور خدمت کی شرط لگا دی، یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوعبدالرحمن! کیا تو نے اپنی بیوی سے لونڈی خریدی ہے اور اس نے تم پر خدمت کی شرط لگائی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تو اس کو نہ خرید کیونکہ اس میں دو کا حصہ ہے
(ب) سیدنا عمر بن خطاب نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے فرمایا: اس پر اور کسی پر بھی واقع نہ ہونا جس میں شرط ہو
(ج) قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ یہ تیرا مال نہیں ہے جس میں کسی دوسرے کا بھی حصہ ہو۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے فرمایا: اس پر اور کسی پر بھی واقع نہ ہونا جس میں شرط ہو
(ج) قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ مرسلاً بیان کرتے ہیں کہ یہ تیرا مال نہیں ہے جس میں کسی دوسرے کا بھی حصہ ہو۔
حدیث نمبر: 10835
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ ⦗٥٥٠⦘ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَهُ وَدَعَا لَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: " بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ " قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: " بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ " قَالَ: فَبِعْتُهُ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى أَثَرِي " أَنِّي مَا مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُمَا لَكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ، عَنْ زَكَرِيَّا..
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے، وہ تھک گیا تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ارادہ کیا کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ کہتے ہیں: پیچھے سے رسول اللہ ﷺ ملے، آپ ﷺ نے اس کو مارا اور دعا فرمائی۔ وہ ایسا چلا کہ اس سے پہلے اس کی مثل نہ چلا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ ایک اوقیہ کا فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ایک اوقیہ کا فروخت کر دو۔“ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں فروخت کرتا ہوں لیکن اپنے گھر تک سواری کرنے کو مستثنیٰ کرتا ہوں۔ جب میں گھر آگیا تو اونٹ کو لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے قیمت نقد دے دی۔ میں واپس چلا، آپ ﷺ نے میرے پیچھے کسی کو روانہ کیا کہ ”میں تجھ سے سستا نہ خریدنا چاہتا تھا کہ آپ کا اونٹ لے لوں، اپنا اونٹ اور قیمت لے لو، یہ دونوں آپ کے ہیں۔“
حدیث نمبر: 10836
قَالَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ: أَفْقَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے مدینہ تک سواری کرنے کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 10837
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ إِسْحَاقُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، " فَبِعْتُهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنا جَرِيرٌ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
جریر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اس کو اس شرط پر فروخت کر دیا کہ میں مدینہ تک اس پر سواری کروں گا۔
حدیث نمبر: 10838
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ " وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ قُرَيْشٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ تک اس پر سواری کرنا آپ رضی اللہ عنہ کے لیے جائز تھا۔
حدیث نمبر: 10839
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ: عَنْ جَابِرٍ " وَشَرْطُ ظَهْرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَوَّاسُ، ثنا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن منکدر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے مدینہ تک سواری کی شرط لگائی۔
حدیث نمبر: 10840
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرٍ " وَلَكَ ظَهْرُهُ حَتَّى تَرْجِعَ "، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حدیث نمبر: 10841
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: " أَفْقَرْنَاكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَجَبِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تجھے مدینہ تک سواری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 10842
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ " تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَهُ.⦗٥٥١⦘ وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ عَطَاءٍ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَأَخْرَجَ حَدِيثَ أَبِي الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن ابوالجعد سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ”تو اپنے گھر اس پر سوار ہو کر پہنچ جاؤ۔“
حدیث نمبر: 10843
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ، فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بِعْنِيهِ " فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ وَقُلْتُ: عَلَى أَنَّ ظَهْرَهُ لِي إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: " وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً، ثُمَّ وَهَبَهُ لِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَبَعْضِ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ شَرْطًا فِي الْبَيْعِ، وَبَعْضُهَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَضُّلًا، وَتَكَرُّمًا وَمَعْرَوفًا بَعْدَ الْبَيْعِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور میرا اونٹ تھک گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کو دوڑایا تو وہ بھاگنے لگا، پھر میں اس کی لگام کو کنٹرول کرتا رہا، لیکن میں نہ کر سکا۔ نبی ﷺ مجھے ملے اور فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے اسے پانچ اوقیہ میں فروخت کر دیا اور میں نے مدینہ تک سواری کرنے کی شرط کر لی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ مدینہ تک سواری کر لیں۔“ جب میں مدینہ آیا تو میں اونٹ لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے ایک اوقیہ زیادہ کر دیا اور پھر وہ مجھے ہبہ کر دیا۔
نوٹ: بعض الفاظ بیع میں شرط کرنے پر دلالت کرتے ہیں اور بعض یہ کہ بیع کے بعد احسان وغیرہ کیا گیا۔
نوٹ: بعض الفاظ بیع میں شرط کرنے پر دلالت کرتے ہیں اور بعض یہ کہ بیع کے بعد احسان وغیرہ کیا گیا۔