کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جو شخص اپنی فروخت کی جانے والی چیز کی قیمت میں یا جو قیمت اس سے طلب کی گئی اس میں جھوٹ بولے، اس پر سختی کا بیان۔
حدیث نمبر: 10796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ، فَأَخَذَهَا وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلدُّنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَّى، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ فَيَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ کلام نہ فرمائے گا، نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: 1 جو شخص عصر کے بعد اپنا سامان قسم اٹھا کر فروخت کرتا ہے کہ اس نے اتنے کا لیا ہے، خریدنے والا اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے سامان لے لیتا ہے حالانکہ بات اس طرح نہ تھی، 2 جو شخص امام سے صرف دنیا کے لیے بیعت کرتا ہے، اگر مل جائے تو پوری کرتا ہے یعنی وفا کرتا ہے، اگر دنیا نہ ملے تو وفا نہیں کرتا، 3 جو بندہ زائد پانی جنگل میں مسافروں سے روک لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 10797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْعَوَّامُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً لَهُ فَحَلَفَ بِاللهِ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِ بِهَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] الْآيَةَ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى: النَّاجِشُ آكِلُ رِبًا خَائِنٌ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الْعَوَّامِّ بْنِ حَوْشَبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا سامان پڑا تھا، اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ اس نے اس کے اتنے پیسے دیے ہیں، اتنے کا لیا ہے، حالانکہ اس کی اتنی رقم نہ دی گئی تھی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بھاؤ بڑھانے والا سود کھانے والا خائن ہے۔