حافظ ثناء اللہ
مرابحہ سے مراد ہے کہ فروخت کنندہ کوئی چیز اس وضاحت کے ساتھ بیچے کہ اس پر میری یہ لاگت آئی ہے اور اب میں اتنے منافع کے ساتھ فلاں قیمت پر بیچتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيَّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَ يَشْتَرِي الْعِيرَ فَيَقُولُ: " مَنْ يُرْبِحُنِي عَقْلَهَا؟، مَنْ يَضَعُ فِي يَدِي دِينَارًا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب اونٹ کے قافلے کو خریدتے تو فرماتے: کون مجھے اس رسی پر ایک دینار منافع دے گا؟
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِزَارًا غَلِيظًا، قَالَ: " اشْتَرَيْتُ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ فَمَنْ أَرْبَحَنِي فِيهِ دِرْهَمًا بِعْتُهُ إِيَّاهُ " وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ بَيْعَ دَهْ دُو ازْدَهْ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبحر اپنے شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان پر ایک موٹی چادر تھی۔ انہوں نے کہا: میں نے پانچ درہم کی خریدی ہے، جو مجھے ایک درہم نفع دے گا میں اس کو فروخت کروں گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ⦗٥٣٩⦘ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادَةَ، أَوْ يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ دَهْ يَا زِدَهْ أَوْ دَهْ دُو ازْدَهْ وَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ بَيْعُ الْأَعَاجِمِ " وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ إِذَا قَالَ: هُوَ لَكَ بِدَهْ يَا زْدَهْ أَوْ قَالَ: بِدَهْ دُو ازْدَهْ لَمْ يُسَمِّ رَأْسَ الْمَالِ ثُمَّ سَمَّاهُ عِنْدَ النَّقْدِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی زیاد یا یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ دس کی چیز گیارہ کے بدلے یا دس کی چیز بارہ کے بدلے (بیچنے) سے منع فرما رہے تھے اور فرمایا: یہ تو عجمیوں کی بیع ہے۔ یہ احتمال ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، جب کہا جائے کہ آپ کے لیے دس کی چیز بارہ کے بدلے لیکن اصل مال کا نام نہیں لیتا، پھر نقدی کے موقع پر نام لیتا ہے، اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔