کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ”کوئی شخص کسی چیز کو ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچے، پھر اسے کم قیمت پر خرید لے“۔
حدیث نمبر: 10798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ الْإِمَامُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ الْأَنْصَارِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: دَخَلَتِ امْرَأَتِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ وَلَدٍ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقَالَتْ لَهَا أُمُّ وَلَدِ زَيْدٍ: إِنِّي بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ عَبْدًا بِثَمَانِمِائَةٍ نَسِيئَةً وَاشْتَرَيْتُهُ مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَبْلِغِي زَيْدًا أَنْ قَدْ أَبْطَلْتَ جِهَادَكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ تَتُوبَ، بِئْسَمَا شَرَيْتَ، وَبِئْسَ مَا اشْتَرَيْتَ " كَذَا جَاءَ بِهِ شُعْبَةُ، عَنْ طَرِيقِ الْإِرْسَالِ.
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری بیوی اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ام ولد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو زید بن ارقم کی ام ولد نے کہا: میں زید کو ایک 800 درہم کا ادھار فروخت کرتی ہوں، پھر میں ان سے 600 درہم میں نقد خرید لیتی ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میری جانب سے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتانا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا ہوا جہاد بھی باطل کر لیا۔ ہاں توبہ کرو اور برا ہے جو تو نے خریدا اور جو فروخت کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10798
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن الجعد 451»
حدیث نمبر: 10799
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَالِيَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَتَتْهَا أُمُّ مَحَبَّةٍ فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَكُنْتِ تَعْرِفِينَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَإِنِّي بِعْتُهُ جَارِيَةً إِلَى عَطَائِهِ بِثَمَانِمِائَةٍ نَسِيئَةً وَإِنَّهُ أَرَادَ بَيْعَهَا فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْهُ بِسِتِّمِائَةٍ نَقْدًا، فَقَالَتْ لَهَا: " بِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَى أَبْلِغِي زَيْدًا أَنَّهُ قَدْ أَبْطَلَ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ يَتُبْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ام محبہ آئی، اس نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو جانتی ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہاں۔ میں نے ان کو اپنی لونڈی 800 درہم ادھار پر فروخت کی ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ اسے مجھے 600 درہم نقد میں فروخت کر دیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام محبہ سے کہا: برا ہے جو تو نے خریدا اور برا ہے جو انہوں نے فروخت کیا۔ میری بات زید تک پہنچا دو، اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ کیا ہوا اپنا جہاد بھی باطل کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10799
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 10800
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ امْرَأَتِهِ الْعَالِيَةِ أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي السَّفَرِ بَاعَتْ جَارِيَةً لَهَا إِلَى الْعَطَاءِ مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَذَكَرَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " بِئْسَ مَا شَرَيْتِ وَبِئْسَ مَا اشْتَرَيْتِ " وَزَادَ، قَالَتْ: أَرَأَيْتِ إِنْ لَمْ آخُذْ إِلَّا رَأْسَ مَالِي، قَالَتْ: " فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ. كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ أَيْفَعَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مَحَبَّةَ إِلَى مَكَّةَ فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق اپنی زوجہ عالیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابواسفر کی بیوی نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو ایک لونڈی 800 درہم میں فروخت کر دی۔ اس نے ذکر کیا ہے کہ آپ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: ”تم نے برا فروخت کیا ہے اور برا ہی خریدا ہے۔“ اس نے زیادہ (مزید) کیا ہے کہ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنا اصل مال لوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ﴿فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ﴾ [سورة البقرة: 275] ”جس کے پاس اس کے رب کی نصیحت آگئی، وہ رک گیا تو اس کے لیے وہ ہے جو گزر گیا۔“
(ب) یونس بن ابی اسحاق اپنی والدہ عالیہ بنت ایفع سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں اور ام محبہ مکہ گئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10800
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 10801
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ تَكُونُ عَائِشَةُ لَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عَنْهَا عَابَتْ عَلَيْهَا بَيْعًا إِلَى الْعَطَاءِ؛ لِأَنَّهُ أَجَلٌ غَيْرُ مَعْلُومٍ وَهَذَا مَا لَا نُجِيزُهُ، لَا أَنَّهَا عَابَتْ عَلَيْهَا مَا اشْتَرَتْ بِنَقْدٍ وَقَدْ بَاعَتْهُ إِلَى أَجَلٍ وَلَوِ اخْتَلَفَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ فِيهِ شَيْئًا، وَقَالَ غَيْرُهُ خِلَافَهُ كَانَ أَصْلُ مَا نَذْهَبُ إِلَيْهِ أَنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ الَّذِي مَعَهُ الْقِيَاسُ وَالَّذِي مَعَهُ الْقِيَاسُ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: وَجُمْلَةُ هَذَا أَنَّا لَا نُثْبِتُ مِثْلَهُ عَلَى عَائِشَةَ مَعَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ لَا يَبِيعُ إِلَّا مَا ⦗٥٤١⦘ يَرَاهُ حَلَالًا، وَلَا يَبْتَاعُ إِلَّا مِثْلَهُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا بَاعَ شَيْئًا أَوِ ابْتَاعَهُ نَرَاهُ نَحْنُ مُحَرَّمًا وَهُوَ يَرَاهُ حَلَالًا لَمْ نَزْعُمُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْبِطُ بِهِ مِنْ عَمَلِهِ شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہوتا تو وہ اس بیع پر ضرور عیب لگاتیں، کیونکہ اس کا تو وقت ہی معلوم نہیں۔ اس کو ہم جائز خیال نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے نقد خریدنے پر انہوں نے عیب لگایا ہے تو اس نے مدت متعین کے لیے فروخت کیا تھا۔ لیکن صحابہ کے درمیان بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ ہم اس کی بات لیں گے جس کے ساتھ قیاس بھی ہو تو وہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں، ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف کسی چیز کو ثابت تو نہیں کرتے لیکن زید بن ارقم رضی اللہ عنہ حلال خیال کرتے ہوئے ہی خریدتے اور فروخت کرتے تھے، لیکن ان کے خیال میں حلال تھا تو ان کے اعمال باطل نہ ہوں گے ہمارے حرام سمجھنے کی بنا پر۔ [صحیح۔ ذکرہ الشافعی فی الام: 3/ 95]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10801
حدیث نمبر: 10802
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سَرْجًا وَلَمْ يَنْقُدْ ثَمَنَهُ، فَأَرَادَ صَاحِبُ السَّرْجِ الَّذِي اشْتَرَاهُ أَنْ يَبِيعَهُ فَأَرَادَ الَّذِي بَاعَهُ أَنْ يَأْخُذَهُ بِدُونِ مَا بَاعَهُ مِنْهُ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَلَعَلَّهُ لَوْ بَاعَهُ مِنْ غَيْرِهِ بَاعَهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ أَوْ أَنْقَصَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کو دیا فروخت کر دیا، اس نے قیمت نقد نہ دی۔ اب دینے والے کا اس کو خریدنے کا ارادہ بنا جس سے فروخت کیا تھا تو اس سے کہا: کم قیمت لو جتنے میں میں نے تجھے فروخت کیا تھا، اس کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا تو وہ اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ وہ کسی دوسرے کو دے تو ممکن ہے اسی قیمت میں فروخت کرے یا اس سے بھی کم۔
(ب) ہشام رحمہ اللہ، ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو اونٹ فروخت کیا، وہ کہنے لگا: اپنا اونٹ بھی لو اور 30 درہم بھی۔ انہوں نے قاضی شریح رحمہ اللہ سے سوال کیا تو وہ اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10802
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 14822»