کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خریدار اپنی خریدی ہوئی چیز میں عیب پائے جبکہ وہ ایک عرصے تک اس سے فائدہ اٹھا چکا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو كَشْمَرْدُ، أنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ ⦗٥٢٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ "..
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آمدنی (منافع) ضمانت کے بدلے ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَاخْتَلَفُوا عَلَى ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ فِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب نے یہی حدیث ذکر کی، مگر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ ”خراج (آمدنی) ضمانت کے بدلے ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ شُرَكَائِي عَبْدٌ فَاقْتَوَيْنَاهُ فِيمَا بَيْنَنَا، قَالَ: وَكَانَ مِنْهُمْ غَائِبٌ فَقَدِمَ فَخَاصَمَنَا إِلَى هِشَامٍ فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْعَبْدُ وَخَرَاجُهُ، وَقَدْ كَانَ اجْتَمَعَ مِنْ خَرَاجِهِ أَلْفُ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ " قَالَ: فَأَتَيْتُ هِشَامًا فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَرَدَّ ذَلِكَ وَأَجَازَهُ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُسِمِّ الْأَلْفَ وَلَا هِشَامًا، وَقَالَ: إِلَى بَعْضِ الْقُضَاةِ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَسَمَّاهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
مخلد بن خفاف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ایک غلام تھا، ہم نے اپنے درمیان اس کی قیمت لگائی۔ ان میں سے ایک غائب تھا، جب وہ آیا تو ہم جھگڑا لے کر ہشام کے پاس گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ غلام لوٹایا جائے اور اس کا منافع بھی، جبکہ اس کے منافع سے ایک ہزار درہم جمع ہو چکے تھے۔ مخلد بن خفاف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عروہ رحمہ اللہ کے پاس آیا تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”اخراجات کے بدلے منافع“ کا فیصلہ فرمایا تھا۔ میں ہشام کے پاس آیا تو انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے کر اس کو درست کر دیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: خَاصَمْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي عَبْدٍ دَلَّسَ لَنَا فَأَصَبْنَا مِنْ غَلَّتِهِ وَعِنْدَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَهُ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ " وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
مخلد بن خفاف غفاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک غلام کے بارے میں جھگڑا لے کر گیا جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا، ہم نے اس کے غلے کو پا لیا اور ان کے پاس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ تھے، عروہ رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ خراج (آمدنی) ضمانت کے بدلے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ، قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ، وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْنِي " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ ". فَعَجَّلْتُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ مَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ ⦗٥٢٦⦘ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَيْسَرَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ قَضَيْتُهُ اللهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أُرِدْ فِيهِ إِلَّا الْحَقَّ فَبَلَغَتْنِي فِيهِ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرُدُّ قَضَاءَ عُمَرَ وَأُنَفِّذُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيَّ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ
مخلد بن خفاف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا، میں نے اس سے غلہ حاصل کیا، پھر میں نے اس کے عیب کی نشاندہی کر دی، پھر میں جھگڑا لے کر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس گیا، انہوں نے اس کی واپسی کا فیصلہ کر دیا اور مجھے اس کا غلہ واپس کرنے کا کہا۔ میں نے آکر عروہ رحمہ اللہ کو خبر دی تو انہوں نے کہا: میں شام کے وقت جا کر ان کو خبر دوں گا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کا فیصلہ فرمایا کہ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» ”خراج ضمانت کی وجہ سے ہے۔“ میں نے حضرت عمر رحمہ اللہ کی طرف جلدی کی، میں نے ان کو بتایا جو عروہ رحمہ اللہ نے بحوالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے متعلق مجھے بتایا، حضرت عمر رحمہ اللہ فرمانے لگے: اپنے کیے ہوئے فیصلے کو بدلنا میرے لیے کتنا آسان ہے! اللہ جانتا ہے کہ میں نے اس میں صرف حق کا ارادہ کیا تھا، اب مجھے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی سنت پہنچ گئی ہے، لہٰذا میں عمر کا فیصلہ رد کرتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو نافذ کرتا ہوں۔ عروہ رحمہ اللہ ان کے پاس گئے، تو انہوں نے میرے لیے فیصلہ کیا کہ میں خراج اس شخص سے واپس لوں جس کے حق میں انہوں نے میرے خلاف فیصلہ کیا تھا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”خراج (آمدنی) ضمانت کے بدلے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ غُلَامًا فَأَصَابَ مِنْ غَلَّتِهِ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ دَاءً كَانَ عِنْدَ الْبَائِعِ فَخَاصَمَهُ إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ: " رُدَّ الدَّاءَ بِدَائِهِ، وَلَكَ الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے غلام خریدا، اس سے غلہ بھی حاصل کیا، پھر اس میں بیماری پائی جو فروخت کرنے والے کے پاس ہی موجود تھی۔ وہ جھگڑا لے کر قاضی شریح کے پاس آگئے تو انہوں نے فرمایا: وہ بیماری کی وجہ سے واپس کیا جائے گا اور تیرے لیے غلہ ضمانت کی وجہ سے ہے۔