کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیع کے صحیح ہونے کا بیان جس میں دھوکہ دہی واقع ہوئی ہو، ساتھ ہی اس میں خیار (سودا منسوخ کرنے کا اختیار) ثابت ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10736
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ، وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اونٹوں اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ مت روکو، جس نے اس کے بعد (ایسا جانور) خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دو اختیار حاصل ہیں۔ اگر چاہے تو جانور کو رکھ لے یا واپس کر دے، اگر واپس کرتا ہے تو ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ دے۔“
حدیث نمبر: 10737
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: اشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَرِيكِ النَّوَّاسِ إِبِلًا هِيمًا، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى إِبِلًا هِيَامًا مِنْ شَرِيكٍ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ نَوَّاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَأَخْبَرَ نَوَّاسًا أَنَّهُ بَاعَهَا مِنْ شَيْخٍ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ نَوَّاسٌ: وَيْلَكَ ذَاكَ ابْنُ عُمَرَ فَجَاءَ نَوَّاسٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلًا هِيَامًا وَلَمْ يُعَرِّفْكَ، قَالَ: " فَاسْتَقْهَا إِذًا "، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَسْتَاقَهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " دَعْهَا رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ وَقَالَ هِيمٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے۔
(ب) عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے تو اس نے نواس کو بتایا کہ میں نے فلاں شیخ کو فروخت کر دیے ہیں۔ نواس کہنے لگے: افسوس تجھ پر! وہ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، تو نواس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ گئے اور کہنے لگے کہ میرے ساتھی نے آپ کو پیاس کی بیماری والے اونٹ فروخت کر دیے ہیں، وہ آپ کو جانتا نہ تھا۔ انہوں نے فرمایا: ان کو ہانک کر لے جاؤ۔ جب وہ لے جانے کے لیے ہانکنے لگا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چھوڑو! ہم رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی ہیں کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی۔“
(ب) عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نواس کے شریک سے پیاس کی بیماری والے اونٹ خرید لیے تو اس نے نواس کو بتایا کہ میں نے فلاں شیخ کو فروخت کر دیے ہیں۔ نواس کہنے لگے: افسوس تجھ پر! وہ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، تو نواس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ گئے اور کہنے لگے کہ میرے ساتھی نے آپ کو پیاس کی بیماری والے اونٹ فروخت کر دیے ہیں، وہ آپ کو جانتا نہ تھا۔ انہوں نے فرمایا: ان کو ہانک کر لے جاؤ۔ جب وہ لے جانے کے لیے ہانکنے لگا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چھوڑو! ہم رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی ہیں کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی۔“