کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیعِ عینہ (سود کی ایک حیلہ ساز قسم) کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُسَافِرٍ، ثنا أَبِي، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ إِسْحَاقَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ⦗٥١٧⦘ إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ، بِالزَّرْعِ وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”جب تم بیع عینہ (ادھار بیچ کر کم قیمت پر واپس خریدنا) کرنے لگو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے وہ نہیں ہٹائے گا، یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهَيْنِ ضَعِيفَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا " أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَنَهَى أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: اشْتَرِ كَذَا وَكَذَا وَأَنَا أَشْتَرِيهِ مِنْكَ بِرِبْحِ كَذَا وَكَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
اسی طرح (عطاء سے دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے)۔ نیز یہ روایت عطاء بن ابی رباح عن ابن عمر کی سند سے دو ضعیف طریقوں سے بھی مروی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوف روایت ہے کہ وہ ناپسند کرتے اور منع فرماتے تھے کہ آدمی آ کر کہہ دے: ”تو اتنے اتنے میں خرید اور میں تجھ سے اتنے منافع میں خریدتا ہوں۔“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوف روایت ہے کہ وہ ناپسند کرتے اور منع فرماتے تھے کہ آدمی آ کر کہہ دے: ”تو اتنے اتنے میں خرید اور میں تجھ سے اتنے منافع میں خریدتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَكَلَّفُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، قَالَ: " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک شخص آتا ہے کہ مجھے یہ چیز فروخت کر دو، پھر میں بازار سے تکلفاً اس کو لا کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیرے پاس نہیں اس کو فروخت نہ کر۔“