السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما ورد في كراهية التبايع بالعينة باب: بیعِ عینہ (سود کی ایک حیلہ ساز قسم) کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10705
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَكَلَّفُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، قَالَ: " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک شخص آتا ہے کہ مجھے یہ چیز فروخت کر دو، پھر میں بازار سے تکلفاً اس کو لا کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیرے پاس نہیں اس کو فروخت نہ کر۔“