السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما ورد في كراهية التبايع بالعينة باب: بیعِ عینہ (سود کی ایک حیلہ ساز قسم) کی کراہت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10704
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهَيْنِ ضَعِيفَيْنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا " أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، وَنَهَى أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: اشْتَرِ كَذَا وَكَذَا وَأَنَا أَشْتَرِيهِ مِنْكَ بِرِبْحِ كَذَا وَكَذَا ".حافظ ثناء اللہ
اسی طرح (عطاء سے دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے)۔ نیز یہ روایت عطاء بن ابی رباح عن ابن عمر کی سند سے دو ضعیف طریقوں سے بھی مروی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوف روایت ہے کہ وہ ناپسند کرتے اور منع فرماتے تھے کہ آدمی آ کر کہہ دے: ”تو اتنے اتنے میں خرید اور میں تجھ سے اتنے منافع میں خریدتا ہوں۔“