قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: 29] وَقَالَ {وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة: 275].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ ”آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔“ [سورة النساء: 29]
اور فرمایا: ﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ ”اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔“ [سورة البقرة: 275]
اور فرمایا: ﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ ”اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔“ [سورة البقرة: 275]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: ٥٧] قَالَ: " التِّجَارَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ﴾ [سورة البقرة: 57] ”جو ہم نے تمہیں پاکیزہ رزق دیے ان سے کھاؤ“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ مراد تجارت ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ قَالَ: " مِنَ التِّجَارَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ﴾ الآیۃ [سورة البقرة: 267] کے بارے میں فرماتے ہیں: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم جو پاکیزہ رزق کماتے ہو اس سے خرچ کرو، مراد تجارت ہے۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: ٢٩] قَالَ: " التِّجَارَةُ رِزْقٌ مِنْ رِزْقِ اللهِ حَلَالٌ مِنْ حَلَالِ اللهِ لِمَنْ طَلَبَهَا بِصِدْقِهَا وَبِرِّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ، مگر سوداگری کر کے آپس کی خوشی سے“ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد تجارت ہے، یہ اللہ کا رزق ہے اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں سے ہے جو اس کو سچائی اور نیکی کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ، أَوْ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ " هَكَذَا رَوَاهُ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَاضِي، وَغَلَطَ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا فِي قَوْلِهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَالْآخَرُ فِي وَصْلِهِ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ وَائِلٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
جمیع بن عمیر اپنے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سی کمائی پاکیزہ ہے یا پوچھا: افضل ہے؟ فرمایا: ”آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیک نیتی سے کیا ہوا سودا۔“
شریک بن عبداللہ قاضی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں دو جگہ غلطی کی ہے: ایک جمیع بن عمیر کہنے میں، حالانکہ وہ سعید بن عمیر ہیں اور دوسری اسے موصول بیان کرنے میں، حالانکہ دوسروں نے اسے وائل سے مرسل روایت کیا ہے۔
شریک بن عبداللہ قاضی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں دو جگہ غلطی کی ہے: ایک جمیع بن عمیر کہنے میں، حالانکہ وہ سعید بن عمیر ہیں اور دوسری اسے موصول بیان کرنے میں، حالانکہ دوسروں نے اسے وائل سے مرسل روایت کیا ہے۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَبُو أُمِّهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ كَسْبِ الرَّجُلِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا وَيُقَالُ عَنْهُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " كَسْبٌ مَبْرُورٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عمیر، جن کے نانا سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہیں، سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا: ”انسان کی کون سی کمائی پاکیزہ ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر جائز خرید و فروخت۔“
یہی روایت مرسل ہونے کی صورت میں محفوظ ہے۔
(ب) سعید اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ”کون سی کمائی افضل ہے؟“ فرمایا: ”پاکیزہ کمائی۔“
یہی روایت مرسل ہونے کی صورت میں محفوظ ہے۔
(ب) سعید اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ”کون سی کمائی افضل ہے؟“ فرمایا: ”پاکیزہ کمائی۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ أَرْسَلَهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ. وَقَالَ شَرِيكٌ: عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ - وَجُمَيْعٌ، خَطَأٌ، وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ -، وَهُوَ خَطَأٌ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ وَائِلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: أَسْنَدَهُ بَعْضُهُمْ وَهُوَ خَطَأٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن عمیر اپنے چچا سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔
دوسرے راویوں نے اسے سفیان سے مرسل بیان کیا ہے۔ شریک نے کہا: وائل بن داود سے، وہ جمیع بن عمیر سے، وہ اپنے ماموں ابوبردہ سے اور جمیع (کا نام) غلط ہے۔ مسعودی نے کہا: وائل بن داود سے، وہ عبایہ بن رافع بن خدیج سے، وہ اپنے والد سے اور یہ بھی غلط ہے۔ صحیح وائل کی سعید بن عمیر سے، وہ نبی ﷺ سے مرسل روایت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے اسے مسند بیان کیا ہے اور یہ غلط ہے۔
دوسرے راویوں نے اسے سفیان سے مرسل بیان کیا ہے۔ شریک نے کہا: وائل بن داود سے، وہ جمیع بن عمیر سے، وہ اپنے ماموں ابوبردہ سے اور جمیع (کا نام) غلط ہے۔ مسعودی نے کہا: وائل بن داود سے، وہ عبایہ بن رافع بن خدیج سے، وہ اپنے والد سے اور یہ بھی غلط ہے۔ صحیح وائل کی سعید بن عمیر سے، وہ نبی ﷺ سے مرسل روایت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے اسے مسند بیان کیا ہے اور یہ غلط ہے۔