حدیث نمبر: 10398
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَبُو أُمِّهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ كَسْبِ الرَّجُلِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا وَيُقَالُ عَنْهُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " كَسْبٌ مَبْرُورٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا: ”انسان کی کون سی کمائی پاکیزہ ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر جائز خرید و فروخت۔“
(ب) سعید اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ”کون سی کمائی افضل ہے؟“ فرمایا: ”پاکیزہ کمائی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10398
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ انظر قبله»