❮
❯
حدیث نمبر: 10397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ، أَوْ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ " هَكَذَا رَوَاهُ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَاضِي، وَغَلَطَ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا فِي قَوْلِهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَالْآخَرُ فِي وَصْلِهِ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ وَائِلٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ

جمیع بن عمیر اپنے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سی کمائی پاکیزہ ہے یا پوچھا: افضل ہے؟ فرمایا: ”آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیک نیتی سے کیا ہوا سودا۔“
شریک بن عبداللہ قاضی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں دو جگہ غلطی کی ہے: ایک جمیع بن عمیر کہنے میں، حالانکہ وہ سعید بن عمیر ہیں اور دوسری اسے موصول بیان کرنے میں، حالانکہ دوسروں نے اسے وائل سے مرسل روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10397
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه الحاكم2/12»