أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، يَقُولُ: " بِاسْمِ اللهِ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب گھر سے نکلتے تو فرماتے: «بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ، أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں یا گمراہ ہو جاؤں۔ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ میں کسی پر جہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: بِاسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ يُقَالُ: وُقِيتَ وَكُفِيتَ "، وَرَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَزَادَ فِيهِ: إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کہا: اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ (کچھ نیکی کرنے کی) قوت، تو (اسے) کہا جاتا ہے: تو بچا لیا گیا اور تیری کفایت کر دی گئی۔“
حجاج بن محمد نے بھی اسے ابن جریج سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: جب وہ اپنے گھر سے نکلے۔
حجاج بن محمد نے بھی اسے ابن جریج سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: جب وہ اپنے گھر سے نکلے۔