حدیث نمبر: 10309
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، يَقُولُ: " بِاسْمِ اللهِ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب گھر سے نکلتے تو فرماتے: «بِسْمِ اللهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کیا جائے۔ میں پھسل جاؤں یا مجھے پھسلایا جائے۔ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ میں کسی پر جہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10309
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 5094»