کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بھیڑ میں سے جذع (چھ ماہ یا سال بھر کے بچے) کی قربانی کے جواز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو دانت والا قربانی کرو۔ اگر تمہیں تنگی ہو جائے تو پھر بھیڑ کا جذعہ ذبح کرو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ مَعَنَا، أَوْ ⦗٣٧٨⦘ عَلَيْنَا مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُوَفِي الْجَذَعُ مِمَّا يُوَفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ غزوہ میں نبی ﷺ کے صحابی مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہما تھے، بکریاں کم یاب ہو گئیں تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”«الْجَذَعُ» ”جزعہ“ بھی کفایت کر جاتا ہے جیسے دو دانت والا یعنی «الثَّنِيُّ» ”مثنیٰ“ کفایت کر جاتا ہے۔“