السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: جواز الجذع من الضأن باب: بھیڑ میں سے جذع (چھ ماہ یا سال بھر کے بچے) کی قربانی کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 10164
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ غزوہ میں نبی ﷺ کے صحابی مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہما تھے، وہ موٹی تازی بکری کے متعلق فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”«الْجَذَعُ» ”جزعہ“ بھی کفایت کر جاتا ہے جیسے دو دانت والا یعنی «الثَّنِيُّ» ”مثنیٰ“ کفایت کر جاتا ہے۔“