کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل نہیں۔
حدیث نمبر: 10091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ ⦗٣٥٩⦘ الْعَدُوِّ " زَادَ أَحَدُهُمَا: ذَهَبَ الْحَصْرُ الْآنَ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ «الْآيَةُ» [سورة البقرة: 196] ”حج و عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ اگر تم روک دیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10091
حدیث نمبر: 10091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ ⦗٣٥٩⦘ الْعَدُوِّ " زَادَ أَحَدُهُمَا: ذَهَبَ الْحَصْرُ الْآنَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو بیت اللہ سے بیماری کی وجہ سے روک دیا گیا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بغیر حلال نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10091
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 805»
حدیث نمبر: 10092
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " مَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ روکا ہوا شخص بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بغیر حلال نہ ہو۔ اگر وہ کپڑے پہننے پر مجبور ہو تو ایسا کر لے لیکن اس کا فدیہ ادا کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا ہے: بیماری کی وجہ سے روکا ہوا شخص ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10092
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 10093
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُحْصَرُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنِ اضْطُرَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا صَنَعَ ذَلِكَ وَافْتَدَى " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: هُوَ الْمُحْصَرُ بِالْمَرَضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب سختیانی اہل بصرہ کے ایک بوڑھے آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مکہ کی طرف گیا۔ میں ابھی راستے میں تھا کہ میری ران ٹوٹ گئی۔ میں نے مکہ کو چھوڑ دیا لیکن میرے ساتھ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر لوگ تھے۔ کسی نے بھی مجھے حلال ہونے کی رخصت نہ دی۔ میں نے اس چشمے پر سات ماہ گزارے۔ پھر میں عمرہ کرنے کے بعد حلال ہوا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10093
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 804»
حدیث نمبر: 10094
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالطَّرِيقِ كُسِرَتْ فَخِذِي، فَأَرْسَلْتُ إِلَى مَكَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ فِي أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَى ذَلِكَ الْمَاءِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب ابوالعلا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کی غرض سے نکلا اور دثنیہ کے مقام پر آگیا۔ میں اپنی سواری سے گر پڑا اور میرا کوئی عضو ٹوٹ گیا۔ میں نے کسی کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا تاکہ ان دونوں سے سوال کیا جائے۔ ان دونوں نے کہا: اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں جیسے حج کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے احرام میں رہے جب تک بیت اللہ نہ پہنچ جائے۔ کہتے ہیں: میں اسی پانی پر چھ ماہ یا سات ماہ رہا، پھر میں بیت اللہ پہنچا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10094
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 10095
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالدُّثَيْنَةِ، وَقَعْتُ عَنْ رَاحِلَتِي فَكُسِرْتُ فَبَعَثْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَسُئِلَا فَقَالَا: " لَيْسَ لَهُ وَقْتٌ كَوَقْتِ الْحَجِّ يَكُونُ عَلَى إِحْرَامِهِ حَتَّى يَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ "، قَالَ: فَتَنَقَّلْتُ تِلْكَ الْمِيَاهَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ أَوْ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى الْبَيْتِ هُوَ أَبُو الْعَلَاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ مِنْ ثِقَاتِ الْبَصْرِيِّينَ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما، مروان اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما ان سب نے ابن حزابہ مخزومی کو فتویٰ دیا جس وقت وہ حالتِ احرام میں سواری سے گر پڑا کہ وہ علاج کروائے جو ضروری ہے، اس کا فدیہ دے، جب درست ہو جائے تو عمرہ کرے، پھر اپنے احرام سے حلال ہو جائے، لیکن آئندہ سال اس پر حج ہے اور قربانی دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10095
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 80»
حدیث نمبر: 10096
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَمَرْوَانَ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ أَفْتَوُا ابْنَ حُزَابَةَ الْمَخْزُومِيَّ وَإِنَّهُ صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ أَنْ يَتَدَاوَى بِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَيَفْتَدِيَ فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِهِ، وَكَانَ عَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا وَيُهْدِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ محرم بیت اللہ کے طواف کے بعد ہی حلال ہوگا۔
اس مسئلہ کا استثناء حج میں بیان کریں گے، اگر اللہ نے چاہا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10096
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 10097
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ ⦗٣٦٠⦘ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا نَعْلَمُ حَرَامًا يَحِلَّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ " وَمَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي مَسْأَلَةِ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الْحَجِّ دَلِيلٌ فِي هَذِهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”کوئی عضو ٹوٹ گیا یا وہ لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو جائے اور اس پر دوسرا حج ہے۔“ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
(ب) ایک روایت میں روح حضرت حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”وہ حلال ہو جائے اور اس پر دوسرا حج ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10097
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد 1862»