کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ ⦗٣٥٩⦘ الْعَدُوِّ " زَادَ أَحَدُهُمَا: ذَهَبَ الْحَصْرُ الْآنَ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رکاوٹ صرف دشمن کی ہے۔ ان دونوں میں سے ایک نے یہ زیادہ کیا ہے کہ روکنا تو اب ختم ہو چکا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ ⦗٣٥٩⦘ الْعَدُوِّ " زَادَ أَحَدُهُمَا: ذَهَبَ الْحَصْرُ الْآنَ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ «الْآيَةُ» [سورة البقرة: 196] ”حج و عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ اگر تم روک دیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کرو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " مَنْ حُبِسَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو بیت اللہ سے بیماری کی وجہ سے روک دیا گیا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بغیر حلال نہیں ہوگا۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُحْصَرُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنِ اضْطُرَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا صَنَعَ ذَلِكَ وَافْتَدَى " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: هُوَ الْمُحْصَرُ بِالْمَرَضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ روکا ہوا شخص بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بغیر حلال نہ ہو۔ اگر وہ ایسے کپڑے پہننے پر مجبور ہو جن کے بغیر چارہ نہیں تو ایسا کر لے لیکن اس کا فدیہ ادا کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا ہے: اس سے مراد بیماری کی وجہ سے روکا ہوا شخص ہے، واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا ہے: اس سے مراد بیماری کی وجہ سے روکا ہوا شخص ہے، واللہ اعلم۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالطَّرِيقِ كُسِرَتْ فَخِذِي، فَأَرْسَلْتُ إِلَى مَكَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ فِي أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَى ذَلِكَ الْمَاءِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ حَلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب سختیانی اہل بصرہ کے ایک بوڑھے آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مکہ کی طرف نکلا۔ میں ابھی راستے میں تھا کہ میری ران ٹوٹ گئی۔ میں نے مکہ کی طرف پیغام بھیجا جہاں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر لوگ تھے، لیکن کسی نے بھی مجھے حلال ہونے کی رخصت نہ دی۔ تو میں نے اس چشمے پر سات ماہ گزارے، پھر میں عمرہ کر کے حلال ہوا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالدُّثَيْنَةِ، وَقَعْتُ عَنْ رَاحِلَتِي فَكُسِرْتُ فَبَعَثْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَسُئِلَا فَقَالَا: " لَيْسَ لَهُ وَقْتٌ كَوَقْتِ الْحَجِّ يَكُونُ عَلَى إِحْرَامِهِ حَتَّى يَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ "، قَالَ: فَتَنَقَّلْتُ تِلْكَ الْمِيَاهَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ أَوْ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى الْبَيْتِ هُوَ أَبُو الْعَلَاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ مِنْ ثِقَاتِ الْبَصْرِيِّينَ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب ابوالعلا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کی غرض سے نکلا اور دثینہ کے مقام پر آگیا۔ میں اپنی سواری سے گر پڑا اور میرا کوئی عضو ٹوٹ گیا۔ میں نے کسی کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا تاکہ ان دونوں سے سوال کیا جائے۔ ان دونوں نے کہا: اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں جیسے حج کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے احرام میں رہے جب تک بیت اللہ نہ پہنچ جائے۔ کہتے ہیں: میں چھ ماہ یا سات ماہ انہی پانی کے مقامات پر منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ میں بیت اللہ پہنچا۔
یہ ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر ہیں، جو بصرہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔
یہ ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر ہیں، جو بصرہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَمَرْوَانَ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ أَفْتَوُا ابْنَ حُزَابَةَ الْمَخْزُومِيَّ وَإِنَّهُ صُرِعَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ أَنْ يَتَدَاوَى بِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَيَفْتَدِيَ فَإِذَا صَحَّ اعْتَمَرَ فَحَلَّ مِنْ إِحْرَامِهِ، وَكَانَ عَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا وَيُهْدِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر، مروان اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم ان سب نے ابن حزابہ مخزومی کو فتویٰ دیا جس وقت وہ حالتِ احرام میں مکہ کے راستے میں سواری سے گر پڑا کہ وہ ضروری علاج کروائے اور اس کا فدیہ دے، جب درست ہو جائے تو عمرہ کرے، پھر اپنے احرام سے حلال ہو جائے، لیکن آئندہ سال اس پر حج ہے اور قربانی دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ ⦗٣٦٠⦘ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا نَعْلَمُ حَرَامًا يَحِلَّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ " وَمَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي مَسْأَلَةِ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الْحَجِّ دَلِيلٌ فِي هَذِهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسی چیز معلوم نہیں جو محرم کو حلال کرے سوائے بیت اللہ کے طواف کے۔
اور حج میں استثناء (شرط لگانے) کے مسئلہ میں جو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے وہ اس بارے میں دلیل ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
اور حج میں استثناء (شرط لگانے) کے مسئلہ میں جو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے وہ اس بارے میں دلیل ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔