کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: محرم اور غیر محرم کے لیے چیونٹی مارنے کی کراہت کا بیان، اور اسی طرح ہر اس جانور کو مارنے کی ممانعت جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا اور اس سے کوئی تکلیف بھی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10068
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ النَّمْلَةَ قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يُونُسَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا، انہوں نے تیاری کا حکم دیا، وہ ان کے نیچے سے نکالی گئی تو ان کو آگ میں جلا دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ”آپ نے صرف ایک چیونٹی کو ہلاک کیوں نہ کیا؟““ [صحیح: مسلم: 2241]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10068
حدیث نمبر: 10069
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ”چار جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور چڑیا (ممولہ)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10069
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 5267»
حدیث نمبر: 10070
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے بلی کو بند رکھا جو بھوک کی وجہ سے مر گئی؛ وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی۔“
راوی کہتے ہیں کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس نے بلی کو نہ کھلایا، نہ پلایا اور نہ ہی چھوڑا تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔
ابن وہب کی روایت میں ہے کہ وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی اور اس سے کہا جاتا تھا کہ نہ تو نے اس بلی کو کھلایا، نہ پلایا جس وقت تو نے اس کو بند کیا یا باندھا تھا اور نہ ہی اس کو چھوڑا تاکہ وہ حشرات الارض ہی کھا لیتی اور وہ بھوکی مر گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10070
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2236»
حدیث نمبر: 10071
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا فَدَخَلْتِ النَّارَ "، قَالَ: ⦗٣٥١⦘ فَقَالَ: وَاللهُ أَعْلَمُ لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا حِينَ حَبَسَتْهَا وَلَمْ تُرْسِلْهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: " فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ " وَيُقَالُ لَهَا وَاللهُ أَعْلَمُ: لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَسَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِهَا، وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا فَتَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْنِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن فیاض رحمہ اللہ، ابوعیاض رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جو چیز آدمی کو نقصان نہ دے اس کو قتل کرنا مکروہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10071
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 10072
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ، وَعَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ أَنَّهُمَا قَالَا: " كَانَ يُكْرَهُ أَنْ يَقْتُلَ الرَّجُلُ مَا لَا يَضُرُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
زیاد بن علاقہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”یہ ناپسندیدہ عمل ہے کہ جو چیز آدمی کو نقصان نہ دے اس کو قتل کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10072
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 10073
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَسَنُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: " كَانَ يُكْرَهُ أَنْ يَقْتُلَ الرَّجُلُ مَا لَا يَضُرُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جوئیں ان کے سر سے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ تجھے تکلیف دیتی ہیں؟“ کعب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے سر منڈانے کا حکم دے دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ حدیبیہ میں تھے، ان کے لیے وضاحت نہ کی گئی کہ اس کی وجہ سے وہ حلال ہو جائیں گے اور دخولِ مکہ کا بھی طمع تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فدیہ نازل کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ایک (فرق، سولہ رطل یا تین صاع) کھانے کا چھ مسکینوں کو دینے کا حکم فرمایا، یا تین دن کے روزے رکھنے یا ایک بکری قربانی کرنے کا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10073
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1720»