کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: 0احصار (حج یا عمرہ سے روکے جانے) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جس شخص کو دشمن کی وجہ سے روکا جائے درآں حالیکہ وہ محرم ہو۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَلَمْ أَسْمَعْ مِمَّنْ حَفِظْتُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالتَّفْسِيرِ مُخَالِفًا فِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ الْمُشْرِكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَحَلَقَ، وَرَجَعَ حَلَالًا وَلَمْ يَصِلْ إِلَى الْبَيْتِ وَلَا أَصْحَابُهُ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ ”اور اللہ کے لیے حج اور عمرے کو پورا کرو، پھر اگر تم (راستے میں) روک لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو (اسے ذبح کرو)، اور اپنے سر نہ منڈواؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ پہنچ جائے، پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ روزے یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ دے۔“ [سورة البقرة: 196]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میں نے علم تفسیر کے ماہرین میں سے جن علمائے کرام سے (علم) محفوظ کیا ہے، ان میں سے کسی ایک کو بھی اس بات میں اختلاف کرتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ آیت مقام حدیبیہ پر نازل ہوئی تھی جب نبی کریم ﷺ کو روک لیا گیا تھا اور مشرکین آپ ﷺ اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اور یہ کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر ہی قربانی کی اور سر منڈوایا، اور آپ ﷺ حلال ہو کر واپس تشریف لے گئے اور آپ ﷺ بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، اور نہ ہی آپ ﷺ کے صحابہ کرام پہنچ سکے، سوائے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے جو اکیلے وہاں پہنچے تھے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میں نے علم تفسیر کے ماہرین میں سے جن علمائے کرام سے (علم) محفوظ کیا ہے، ان میں سے کسی ایک کو بھی اس بات میں اختلاف کرتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ آیت مقام حدیبیہ پر نازل ہوئی تھی جب نبی کریم ﷺ کو روک لیا گیا تھا اور مشرکین آپ ﷺ اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اور یہ کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر ہی قربانی کی اور سر منڈوایا، اور آپ ﷺ حلال ہو کر واپس تشریف لے گئے اور آپ ﷺ بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، اور نہ ہی آپ ﷺ کے صحابہ کرام پہنچ سکے، سوائے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے جو اکیلے وہاں پہنچے تھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، وَالْقُمَّلُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ، قَالَ: وَهُمْ ⦗٣٥٢⦘ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ مِنْ دُخُولِ مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللهُ الْفِدْيَةَ، وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ نُسُكُ شَاةٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ وَرْقَاءَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جوئیں ان کے سر سے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ تجھے تکلیف دیتی ہیں؟“ کعب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے سر منڈانے کا حکم دے دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ حدیبیہ میں تھے، ان کے لیے وضاحت نہ کی گئی کہ اس کی وجہ سے وہ حلال ہو جائیں گے اور دخولِ مکہ کا بھی طمع تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فدیہ نازل کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ایک (فرق، سولہ رطل یا تین صاع) کھانے کا چھ مسکینوں کو دینے کا حکم فرمایا، یا تین دن کے روزے رکھنے یا ایک بکری قربانی کرنے کا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا، وَقَالَ: " إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَارَ حَتَّى ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أُرَاهُمَا إِلَّا وَاحِدًا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ: فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْنِي أَحْلَلْنَا كَمَا أَحْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے دور میں عمرہ کی غرض سے نکلے اور فرمانے لگے: اگر میں بیت اللہ سے روک دیا گیا تو پھر ہم ویسے ہی کریں گے، جیسا ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے اور چلے، یہاں تک کہ بیدا پہاڑی پر چڑھ گئے۔ پھر مڑ کر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ان دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک جیسا ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ کو بھی واجب کر لیا ہے، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیت اللہ میں آ کر طواف کیا، صفا و مروہ کی سعی کی، سات سات چکر کاٹے، اس سے زیادہ نہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان سے کفایت کر جائے گا اور قربانی کی۔
(ب) ابن بکیر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ہم بیت اللہ سے روک دیے گئے تو ویسا ہی کریں گے جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا، یعنی ہم حلال ہو جائیں گے جیسے ہم حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حلال ہو گئے تھے۔
(ب) ابن بکیر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ہم بیت اللہ سے روک دیے گئے تو ویسا ہی کریں گے جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا، یعنی ہم حلال ہو جائیں گے جیسے ہم حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حلال ہو گئے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يُصَدِّقُ حَدِيثُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي نُزُولِهِ أَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ فِي مَجِيءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَمَا قَاضَاهُ عَلَيْهِ حِينَ صَدُّوهُ، عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا " قَالَ: فَوَاللهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ قَامَ فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ، فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ هَدْيَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا، ⦗٣٥٣⦘ وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ لِبَعْضٍ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رحمہ اللہ، دونوں کی احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ حدیبیہ کے سال نکلے۔ جب آپ ﷺ ذوالحلیفہ آئے تو وہاں اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا اور شعار کیا (اونٹ کی کوہان کو داہنی طرف سے چیر دینا تاکہ ہدی کی علامت معلوم ہو) اور عمرہ کا احرام باندھا۔ (راوی نے) آپ ﷺ کے حدیبیہ کے آخری کنارے پر اترنے، پھر سہیل بن عمرو کے آنے اور اس فیصلے کا ذکر کیا جو آپ ﷺ سے طے ہوا جب انہوں نے آپ کو بیت اللہ سے روک دیا۔ جب آپ ﷺ صلح نامے سے فارغ ہوئے تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو، قربانی کرو، پھر سر منڈاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا، جب ان میں سے کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی بات کا تذکرہ کیا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ یہ پسند فرماتے ہیں؟ آپ باہر تشریف لے جائیں، پھر ان میں سے کسی سے کوئی بات نہ کریں یہاں تک کہ اپنے قربانی کے اونٹ نحر کر دیں اور اپنے حجام کو بلائیں جو آپ کا سر مونڈ دے۔ تو آپ ﷺ اٹھے اور باہر نکلے، ان میں سے کسی سے کلام نہ کیا یہاں تک کہ آپ نے یہ کر لیا: اپنی قربانی ذبح کی اور اپنے حجام کو بلایا جس نے آپ کا سر مونڈا۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو وہ اٹھے اور انہوں نے قربانیاں کیں اور ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے، قریب تھا کہ غم کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو قتل کر دیتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، زَادَ فِي نُزُولِهِ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَكَانَ مُضْطَرَبُهُ فِي الْحِلِّ، وَكَانَ يُصَلِّي فِي الْحَرَمِ، وَزَادَ فِي قَوْلِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَلُمْهُمْ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ دَخَلَهُمْ أَمْرٌ عَظِيمٌ مِمَّا رَأَوْكَ حَمَلَتْ عَلَى نَفْسِكَ فِي الصُّلْحِ، وَرَجْعَتِكَ وَلَمْ يُفْتَحْ عَلَيْكَ، فَاخْرُجْ يَا رَسُولَ اللهِ فَلَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى تَأْتِيَ هَدْيَكَ فَتَنْحَرَ وَتَحِلَّ، فَإِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْكَ فَعَلْتَ ذَلِكَ فَعَلُوا كَالَّذِي فَعَلْتَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهَا فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا حَتَّى أَتَى هَدْيَهُ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ قَامُوا فَفَعَلُوا فَنَحَرُوا وَحَلَقَ بَعْضٌ وَقَصَّرَ بَعْضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ثَلَاثًا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ثَلَاثًا، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: " وَلِلْمُقَصِّرِينَ " ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: لِمَ ظَاهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً؟ فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا ".
حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی، اور حدیبیہ میں پڑاؤ کے ذکر میں یہ زائد بیان کیا: آپ ﷺ کا خیمہ حل میں تھا اور آپ حرم میں نماز پڑھتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول میں یہ زائد بیان کیا کہ وہ فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ان کو ملامت نہ کریں، کیوں کہ لوگوں پر ایک بہت بڑا معاملہ آن پڑا ہے، اس وجہ سے کہ انہوں نے دیکھا کہ آپ نے صلح میں (سخت شرائط) اپنے اوپر برداشت کیں اور آپ فتح کے بغیر واپس جا رہے ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ نکلیں اور لوگوں میں سے کسی سے کلام نہ کریں یہاں تک کہ آپ اپنی قربانی کے پاس جائیں، قربانی ذبح کریں اور حلال ہو جائیں۔ جب لوگ آپ کو دیکھیں گے کہ آپ نے یہ کیا ہے تو وہ بھی ایسا ہی کریں گے جیسا آپ ﷺ نے کیا ہے، آپ ﷺ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے، کسی سے کلام نہ کیا یہاں تک کہ اپنی قربانی کے پاس جا کر قربانی ذبح کی اور اپنا سر منڈوایا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ کیا ہے تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا: قربانیاں کیں، اور بعض نے سر منڈوائے اور بعض نے بال کتروائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو معاف فرما۔“ تین مرتبہ فرمایا؛ کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اور بال کتروانے والے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو معاف فرما۔“ تین مرتبہ؛ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی۔“ پھر رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لیے تین مرتبہ دعا کی جبکہ بال کتروانے والوں کے لیے صرف ایک مرتبہ؟ فرماتے ہیں: اس لیے کہ انہوں نے شک نہیں کیا۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لیے تین مرتبہ دعا کی جبکہ بال کتروانے والوں کے لیے صرف ایک مرتبہ؟ فرماتے ہیں: اس لیے کہ انہوں نے شک نہیں کیا۔