کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جوئیں مارنے کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَجُلٌ لَمْ أَرَ رَجُلًا أَطْوَلَ شَعْرًا مِنْهُ، فَقَالَ: أَحْرَمْتُ وَعَلَيَّ هَذَا الشَّعْرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " اشْتَمِلْ عَنْ مَا دُونَ الْأُذُنَيْنِ مِنْهُ "، قَالَ: قَبَّلْتُ امْرَأَةً لَيْسَ بِامْرَأَتِي، قَالَ: " زَنَى فُوكَ "، قَالَ: رَأَيْتُ قَمْلَةً فَطَرَحْتُهَا، قَالَ: " تِلْكَ الضَّالَّةُ لَا تُبْتَغَى ".
حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک آدمی آ کر بیٹھا، میں نے اس سے لمبے بال کسی کے نہ دیکھے تھے۔ اس نے کہا: میں نے احرام باندھا ہے اور یہ بال میرے اوپر ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان میں سے کانوں کے نیچے والے حصے کو لپیٹ لو۔ اس نے کہا: میں نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے جو میری بیوی نہ تھی۔ فرمایا: تیرے منہ نے زنا کیا ہے۔ اس نے کہا: میں نے ایک جوں دیکھی تو اسے اتار پھینکا۔ فرمانے لگے: یہ ایسی گم شدہ چیز ہے جسے تلاش نہیں کیا جاتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10063
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 14950»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ جَوْشَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَحُكُّ رَأْسِي وَأَنَا مُحْرِمٌ؟، قَالَ: فَأَدْخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ فِي شَعْرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَحَكَّ رَأْسَهُ بِهَا حَكًّا شَدِيدًا، قَالَ: " أَمَّا أَنَا فَأَصْنَعُ هَكَذَا "، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُ قَمْلَةً؟، قَالَ: " بَعُدْتَ مَا لِلْقَمْلَةِ؟، مَا يُغْنِي مِنْ حَكِّ رَأْسِكَ وَمَا إِيَّاهَا أَرَدْتَ وَمَا نُهِيتُمْ إِلَّا عَنْ قَتْلِ الصَّيْدِ ".
حافظ ثناء اللہ
عیینہ بن عبدالرحمن بن جوشن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا میں حالتِ احرام میں اپنے سر میں خارش کر سکتا ہوں؟ وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اپنے بالوں میں داخل کیا اور شدید قسم کی خارش کی حالانکہ وہ محرم تھے، اور کہنے لگے: میں تو اس طرح کر لیتا ہوں۔ اس نے کہا: اگر میں جوں مار دوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم دور چلے گئے، جوں کی کیا حیثیت ہے؟ تمہارے سر کھجانے میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تم نے اس کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، اور تمہیں صرف شکار کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10064
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ قَمْلَةً وَأَنَا مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَهْوَنُ قَتِيلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میں نے حالت احرام میں جوئیں ماریں، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ تو آسان قتل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10065
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيَنْظُرُ فِي الْمَرْآةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، قَالَ: وَقَالَ: " يَحُكُّ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ مَا لَمْ يَقْتُلْ دَابَّةً، أَوْ جِلْدَةَ رَأْسِهِ أَنْ يُدْمِيَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں مسواک کر لیتے تھے اور محرم ہونے کی صورت میں آئینہ دیکھ لیتے تھے اور فرماتے: محرم اپنے سر میں خارش بھی کر سکتا ہے جب جوئیں نہ مارے یا اپنے سر کی جلد کو زخمی نہ کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10066
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ⦗٣٥٠⦘ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ فِي الْقَمْلَةِ يَقْتُلُهَا الْمُحْرِمُ: " يَتَصَدَّقُ بِكَسْرَةٍ، أَوْ قَبْضٍ مِنْ طَعَامٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حر بن صیاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس جوں کے بارے میں سنا جسے محرم آدمی مار دے کہ وہ روٹی کا ٹکڑا یا کھانے کی ایک مٹھی صدقہ کرے۔ [صحیح: أخرجه ابن الجعد: 570]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10067
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2856»