قَالَ الرَّبِيعُ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ: هَلْ تَرْوِي فِيهَا شَيْئًا عَالِيًا؟ فَقَالَ: أَمَّا شَيْءٌ يَثْبُتُ مِثْلُهُ فَلَا، فَقُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ يُصِيبُهَا الْمُحْرِمُ قِيمَتُهَا " قُلْتُ: قَدْ رُوِيَ هَذَا مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ اس بارے میں کوئی عالی سند والی روایت بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ایسی کوئی چیز نہیں جس کی اس جیسی کوئی سند ثابت ہو۔“ میں نے عرض کیا: وہ روایت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے ایک ثقہ راوی نے ابوالزناد سے خبر دی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شتر مرغ کا انڈا جسے کوئی محرم توڑ دے، تو اس میں اس انڈے کی قیمت ادا کرنا لازم ہے۔““ میں نے کہا: یہ روایت موصولاً (متصل سند کے ساتھ) بھی مروی ہے، البتہ اس (کی سند) میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي بِيضِ النَّعَامَةِ حَدِيثُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي كُلِّ بِيضٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ طَعَامُ مِسْكِينٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَصَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں سب سے بہتر جو میں نے سنا وہ ابوالزناد کی حدیث ہے جو اعرج سے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر انڈے کے عوض ایک دن کا روزہ یا ایک مسکین کا کھانا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَمَ فِي بِيضِ النَّعَامِ كَسَرَهُ رَجُلٌ مُحْرِمٌ صِيَامَ يَوْمٍ لِكُلِّ بَيْضَةٍ " قَالَ الشَّيْخُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ. وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَائِشَةَ وَهُوَ الصَّحِيحُ، قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شتر مرغ کے انڈے توڑنے والے محرم شخص پر ہر انڈے کے عوض ایک دن کے روزے کا فیصلہ فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوقرہ موسیٰ بن طارق نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ ابوعاصم اور ہشام بن سلیمان نے اسے عبدالعزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے زیاد بن سعد سے، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے ایک آدمی سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور یہی صحیح ہے، یہ بات ابوداؤد سجستانی اور دیگر حفاظ نے کہی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوقرہ موسیٰ بن طارق نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ ابوعاصم اور ہشام بن سلیمان نے اسے عبدالعزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے زیاد بن سعد سے، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے ایک آدمی سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور یہی صحیح ہے، یہ بات ابوداؤد سجستانی اور دیگر حفاظ نے کہی ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا ⦗٣٤٠⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا، مُحْرِمًا أَوْطَأَ رَاحِلَتَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ ضِرَابُ نَاقَةٍ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ عَلِيٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ قَالَ عَلِيٌّ مَا تَسْمَعُ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرہ ایک انصاری آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک محرم آدمی کی سواری نے شتر مرغ کے انڈوں کے گھونسلے کو روند ڈالا۔ وہ آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور اس بارے میں سوال کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم پر ہر انڈے کے عوض ایک اونٹنی کی جفتی یا اونٹنی کے پیٹ والا بچہ ہے۔ وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی بات بتلائی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے جو کہا وہ تو نے سن لیا، لیکن رخصت کی طرف آؤ: تم پر ہر انڈے کے عوض ایک دن کا روزہ یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سُئِلَ سَعِيدٌ، عَنْ بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ فَأَخْبَرَنَا، عَنْ مَطَرٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ. وَقِيلَ فِيهِ: عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید رحمہ اللہ سے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں سوال ہوا جنہیں محرم آدمی پا لے (توڑ دے)، تو انہوں نے ہمیں مطر سے یہی روایت اسی مفہوم کے ساتھ بیان کی۔
یہی (روایت) محفوظ ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے: معاویہ بن قرہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔
یہی (روایت) محفوظ ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے: معاویہ بن قرہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بَيْضِ نَعَامٍ أَصَابَهُ مُحْرِمٌ بِقَدْرِ ثَمَنِهِ " وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ بِقِيمَتِهِ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”جب محرم شتر مرغ کے انڈے اٹھا لے تو اس کے عوض اس پر قیمت ڈالی جائے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ يُصِيبُهَا الْمُحْرِمُ صَوْمُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن حصین سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب محرم شتر مرغ کے انڈے اٹھا لے تو ایک انڈے کے عوض ایک روزہ یا ایک مسکین کا کھانا کھلائے۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٣٤١⦘ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي بِيضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ، قَالَ: " فِيهِ ثَمَنُهُ " أَوْ قَالَ: " قِيمَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں، جنہیں محرم پا لے (توڑ دے)، نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”اس کے عوض اس کی قیمت ہے“، یا فرمایا: ”اس کی مالیت ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّهُ جَعَلَ فِي كُلِّ بَيْضَتَيْنِ مِنْ بَيْضِ حَمَامِ الْحَرَمِ دِرْهَمًا " وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَرَى عَطَاءً أَرَادَ بِقَوْلِهِ هَذَا الْقِيمَةَ يَوْمَ قَالَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حرم کے کبوتروں کے ہر دو انڈوں کے عوض ایک درہم فدیہ مقرر کیا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ابن جریج کے واسطے سے حضرت عطاء رحمہ اللہ کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، پھر فرمایا: میرا خیال ہے کہ عطاء کی اس بات سے مراد وہ قیمت تھی جو اس دن تھی جب انہوں نے یہ بات کہی۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ابن جریج کے واسطے سے حضرت عطاء رحمہ اللہ کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے، پھر فرمایا: میرا خیال ہے کہ عطاء کی اس بات سے مراد وہ قیمت تھی جو اس دن تھی جب انہوں نے یہ بات کہی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ فِيمَنْ أَصَابَ بَيْضَ نَعَامٍ، قَالَ: " يَضْرِبُ بِقَدْرِهِنَّ نُوقًا "، قِيلَ لَهُ: فَإِنْ أَزْلَقَتْ مِنْهُنَّ نَاقَةٌ، قَالَ: " فَإِنَّ مِنَ الْبَيْضِ مَا يَكُونُ مَارِقًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَسْنَا وَلَا إِيَّاهُمْ يَعْنِي الْعِرَاقِيِّينَ وَلَا أَحَدٌ عَلِمْنَاهُ يَأْخُذُ بِهَذَا، نَقُولُ يَغْرَمُ ثَمَنَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، رَوَوْا هَذَا عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِثْلَهُ؛ وَلِذَلِكَ تَرَكْنَاهُ بِأَنَّ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يَخْرُجْ بِمُغَيَّبٍ يَكُونُ وَلَا يَكُونُ، وَإِنَّمَا يُجْزِيهِ بِقَائِمٍ، قَالَ الشَّيْخُ: لَيْسَ فِيمَا أُورِدُهُ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ عَلِيٍّ، وَحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رَوَى فِيهِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ سَائِلَهُ إِلَى صِيَامِ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامِ مِسْكِينٍ.
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے کہ وہ انڈوں کی تعداد کے بقدر اونٹنیوں کو جفتی کرائے۔ ان سے کہا گیا: اگر ان میں سے کوئی اونٹنی بچہ گرا دے؟ تو انہوں نے فرمایا: انڈوں میں سے بھی کوئی خراب نکلتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ ہم، نہ اہل عراق اور نہ ہی کوئی ایسا شخص جسے ہم جانتے ہوں اس قول کو اختیار کرتا ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اس کی قیمت بطور تاوان ادا کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: انہوں نے یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کی ہے جس جیسی سند کو اہل علم بالحدیث ثابت نہیں مانتے، اسی لیے ہم نے اسے چھوڑ دیا، اور اس لیے کہ جس پر کوئی چیز واجب ہو وہ ایسی غائب چیز سے بری الذمہ نہیں ہوتا جو ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، بلکہ اسے موجود چیز ہی کافی ہوتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو میں نے ذکر کیا ہے اس میں حسن کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع (ثابت) نہیں ہے، اور معاویہ بن قرہ کی روایت منقطع ہے، اور اس میں یہ مروی ہے کہ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں پیش آیا اور نبی کریم ﷺ نے سائل کو ایک دن کے روزے یا ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی طرف لوٹا دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ ہم، نہ اہل عراق اور نہ ہی کوئی ایسا شخص جسے ہم جانتے ہوں اس قول کو اختیار کرتا ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اس کی قیمت بطور تاوان ادا کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: انہوں نے یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کی ہے جس جیسی سند کو اہل علم بالحدیث ثابت نہیں مانتے، اسی لیے ہم نے اسے چھوڑ دیا، اور اس لیے کہ جس پر کوئی چیز واجب ہو وہ ایسی غائب چیز سے بری الذمہ نہیں ہوتا جو ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، بلکہ اسے موجود چیز ہی کافی ہوتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو میں نے ذکر کیا ہے اس میں حسن کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع (ثابت) نہیں ہے، اور معاویہ بن قرہ کی روایت منقطع ہے، اور اس میں یہ مروی ہے کہ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں پیش آیا اور نبی کریم ﷺ نے سائل کو ایک دن کے روزے یا ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی طرف لوٹا دیا۔