کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: چند لوگوں کا مل کر شکار مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9995
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَرَسَيْنِ نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ الثَّنِيَّةِ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: " تَعَالَ نَحْكُمْ أَنَا وَأَنْتَ "، فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عراق کا ایک گروہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے گوہ کو دوڑایا اور اپنے درمیان بھگاتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے اس کو پکڑ لیا اور ہمارے بعض ساتھی محرم اور بعض حلال تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اگر گوہ مذکر تھا تو اس کا عوض ایک موٹا تازہ مینڈھا ہے، اگر گوہ مؤنث تھی تو اس کا عوض ایک مؤنث مینڈھی ہے، انہوں نے پوچھا: اے ابن عباس! کیا ہم میں سے ہر ایک پر؟ فرمایا: نہیں، بلکہ تم آپس میں برابر تقسیم کرلو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9995
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 9996
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي بِشْرٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا مُجَاهِدٌ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالُوا: إِنَّا أَنْفَجْنَا ضَبُعًا فَرَدَدْنَاهَا بَيْنَنَا فَأَصَبْنَاهَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنْ كَانَ ضَبُعًا فَكَبْشٌ سَمِينٌ، وَإِنْ كَانَ ضَبُعَةً فَنَعْجَةٌ سَمِينَةٌ ". قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنْ تَخَارَجُوا بَيْنَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
بنو ہاشم کے غلام عمار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے غلاموں نے احرام باندھا، ان کے پاس سے گوہ گزری تو انہوں نے لاٹھیاں ماریں اور اس کو پکڑ لیا۔ ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارے ذمہ ایک مینڈھا ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ہر شخص کے ذمہ مینڈھا ہے؟ فرمانے لگے: تم نے اپنے اوپر سختی کی ہے، تم میں سے ہر ایک کے اوپر مینڈھا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لغویوں نے کہا: «لَمُعَزَّرٌ» کا معنی «لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ» ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9996
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الدارقطني 2/ 250»
حدیث نمبر: 9997
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّ مَوَالِيَ، لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَحَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا فَوَقَعَ فِي أَنْفُسِهِمْ فَأَتَوْا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ كَبْشٌ "، قَالُوا: عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ؟ قَالَ: " إِنَّكُمْ لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ كُلُّكُمْ كَبْشٌ " قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ اللُّغَوِيُّونَ: لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ: أَيْ لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عرفہ کے میدان میں خطبہ ارشاد فرمایا، آپ ان کو حج کے احکام سکھا رہے تھے۔ ان میں سے بعض نے کہا: ”جب تم منیٰ میں رمیٔ جمار کر لو تو تمہارے لیے وہ چیز حلال ہو جاتی ہے جو تم پر حرام تھی، سوائے عورتوں اور خوشبو کے۔ عورت سے ہمبستری اور خوشبو کا استعمال بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے نہ کرے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے جمرہ کو رمی کیا، پھر سر منڈوایا یا بال کتروائے، اگر پاس قربانی ہو تو ذبح کرے، تو اس کے لیے وہ اشیاء جائز ہیں جو اس پر حرام تھیں لیکن عورتیں اور خوشبو بیت اللہ کے طواف کے بعد جائز ہوں گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9997
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 922»