أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَرَسَيْنِ نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ الثَّنِيَّةِ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: " تَعَالَ نَحْكُمْ أَنَا وَأَنْتَ "، فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو ان سے کہنے لگا کہ میں نے اور میرے ساتھی نے گھوڑے دوڑائے اور ہم ثغرہ ثنیہ تک مقابلہ کر رہے تھے۔ ہم نے ایک ہرن کو مار لیا اور ہم محرم تھے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص سے کہا: آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کریں، ان دونوں رضی اللہ عنہما نے ایک بکری کے فدیہ کا فیصلہ فرمایا۔ اس نے حدیث میں تذکرہ کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ عبدالرحمن بن عوف ہیں۔ [ضعیف۔ تقدم برقم: 9857]
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي بِشْرٍ، ثنا أَبُو شَيْبَةَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، ثنا مُجَاهِدٌ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالُوا: إِنَّا أَنْفَجْنَا ضَبُعًا فَرَدَدْنَاهَا بَيْنَنَا فَأَصَبْنَاهَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنْ كَانَ ضَبُعًا فَكَبْشٌ سَمِينٌ، وَإِنْ كَانَ ضَبُعَةً فَنَعْجَةٌ سَمِينَةٌ ". قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنْ تَخَارَجُوا بَيْنَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عراق کا ایک گروہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے ایک بجو کو بھگایا اور اپنے درمیان دوڑاتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے اس کو مار لیا اور ہمارے بعض ساتھی حلال اور بعض محرم تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اگر بجو نر تھا تو اس کا عوض ایک موٹا تازہ مینڈھا ہے، اگر مادہ تھی تو اس کا عوض ایک موٹی تازی بھیڑ ہے، انہوں نے پوچھا: اے ابو العباس! کیا ہم میں سے ہر ایک پر؟ فرمایا: نہیں، بلکہ تم آپس میں حصہ ڈال کر ادا کرلو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّ مَوَالِيَ، لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَحَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا فَوَقَعَ فِي أَنْفُسِهِمْ فَأَتَوْا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ كَبْشٌ "، قَالُوا: عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ؟ قَالَ: " إِنَّكُمْ لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ كُلُّكُمْ كَبْشٌ " قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ اللُّغَوِيُّونَ: لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ: أَيْ لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
بنو ہاشم کے غلام عمار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے غلاموں نے احرام باندھا ہوا تھا کہ ان کے پاس سے ایک بجو گزرا تو انہوں نے اسے لاٹھیاں ماریں اور اس کو مار لیا۔ ان کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا۔ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے سامنے تذکرہ کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارے ذمہ ایک مینڈھا ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ہر شخص کے ذمہ مینڈھا ہے؟ فرمانے لگے: تم پر سختی کی گئی ہے، تم میں سے ہر ایک کے اوپر مینڈھا ہے، علی (بن عمر) کہتے ہیں کہ لغویوں نے کہا: «لَمُعَزَّزٌ بِكُمْ» کا معنی «لَمُشَدَّدٌ بِكُمْ» ہے۔