کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حلال (غیر محرم) شخص حل (حرم کے باہر) میں شکار کرے پھر اسے لے کر حرم میں داخل ہو۔
حدیث نمبر: 9991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: " يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ " يَعْنِي طَائِرًا لَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اخلاق کے اعتبار سے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے تھے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، اسے ابوعمیر کہا جاتا تھا، وہ فطیم (دودھ چھڑایا ہوا) تھا۔ جب بھی آپ ﷺ تشریف لاتے تو فرماتے: ”اے ابوعمیر! چڑیا نے کیا کیا؟“ وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا اور بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا اور آپ ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے، تو آپ ﷺ اپنے نیچے والی چٹائی بچھانے کا حکم فرماتے، تو وہ اسے جھاڑو دے کر اور پانی چھڑک کر بچھا دیتے۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9991
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5850»
حدیث نمبر: 9992
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ، أَحْسَبُهُ قَالَ: فَطِيمٌ، فَكَانَ إِذَا جَاءَ، قَالَ: " أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ " كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، وَرُبَّمَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا ایک بیٹا تھا، اس کو ابوعمیر کہا جاتا تھا، نبی ﷺ اس سے خوش طبعی فرماتے جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آتے۔ ایک دن آپ ﷺ آئے تو وہ پریشان تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ابوعمیر! غمگین کیوں ہے؟“ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری چڑیا مر گئی ہے جس کے ساتھ میں کھیلا کرتا تھا، تو نبی ﷺ کہنے لگے: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟» ”اے ابوعمیر! چڑیا نے کیا کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9992
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 9993
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِأُمِّ سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا مَازَحَهُ إِذَا دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَدَخَلَ يَوْمًا فَوَجَدَهُ حَزِينًا، فَقَالَ: " ⦗٣٣٣⦘ مَا لِأَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حرم میں پرندہ یا ہرن تحفہ میں دیا گیا، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ اس دن ہشام رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن ابی رباح کو علم نہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مکہ میں نو سال رہے اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آتے رہے، وہ پنجروں میں چراغ اور چکور کو دیکھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9993
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 9994
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ قَالَا: أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ يُحَدِّثُ فِي بَيْتِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أُهْدِيَ لَهَا طَيْرٌ أَوْ ظَبْيٌ فِي الْحَرَمِ فَأَرْسَلَتْهُ، فَقَالَ يَوْمَئِذٍ هِشَامٌ: " مَا عَلِمَ ابْنُ أَبِي رَبَاحٍ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ تِسْعَ سِنِينَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُونَ فَيَرَوْنَهَا فِي الْأَقْفَاصِ الْقُبَّارَى وَالْيَعَاقِيبَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو ان سے کہنے لگا کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے گھوڑے دوڑائے اور ہم ثغر ثنیہ تک مقابلہ کر رہے تھے۔ ہم نے ایک ہرن کو پا لیا اور ہم محرم تھے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص سے کہا: آؤ ہم دونوں مل کر فیصلہ کریں، ان دونوں رضی اللہ عنہما نے ایک بکری کے فدیہ کا فیصلہ فرمایا۔ اس نے حدیث میں تذکرہ کیا کہ وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ [ضعیف۔ تقدم برقم: ٩٨٥٧]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9994