کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آدمی کسی شکار پر تیر چلائے اور وہ اسے یا کسی اور کو حرم میں جا لگے تو اس پر اس کی جزا (فدیہ) لازم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9989
قَالَ اللهُ تَعَالَى {تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: 94] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَزَعَمَ بَعْضُ أَهْلِ التَّفْسِيرِ أَنَّهُ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ بِالرَّمْيِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ﴾ ”تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے اس (شکار) تک پہنچ سکیں گے۔“ [سورة المائدة: 94]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ تیر اندازی کے ذریعے اس تک پہنچ سکیں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ تیر اندازی کے ذریعے اس تک پہنچ سکیں گے۔“
حدیث نمبر: 9989
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: ٩٤] قَالَ: يَعْنِي النَّيْلَ، وَتَنَالُ أَيْدِيكُمْ أَيْضًا صِغَارَ الصَّيْدِ الْفِرَاخَ وَالْبَيْضَ، وَرِمَاحُكُمْ يَقُولُ: كِبَارُ الصَّيْدِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک شخص اپنے کتے کو حل میں شکار پر چھوڑتا ہے اور شکار جا کر حرم میں داخل ہو جاتا ہے، کتا اس کو تلاش کر کے پھر حل کی طرف نکال لیتا ہے اور قتل کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: اس پر میرے نزدیک فدیہ نہیں، لیکن اس کو میں ناپسند کرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے ابوعمرو! آپ اس طرح کہیں، میں اس کے کھانے کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی میں اس سے منع کرتا ہوں۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، میں اس کو کھانا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔
شیخ فرماتے ہیں: اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ شکار پر حل سے حل میں کتا چھوڑتا ہے، لیکن شکار حرم میں داخل ہو جاتا ہے، کتا اس کو قتل کر دیتا ہے۔ اس پر فدیہ تو نہیں اور اس کو کھاتے بھی نہیں، لیکن کتے اور تیر میں فرق ہے کہ وہ اس شکار کو لگے یا کسی اور کو حرم میں۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، میں اس کو کھانا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔
شیخ فرماتے ہیں: اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ شکار پر حل سے حل میں کتا چھوڑتا ہے، لیکن شکار حرم میں داخل ہو جاتا ہے، کتا اس کو قتل کر دیتا ہے۔ اس پر فدیہ تو نہیں اور اس کو کھاتے بھی نہیں، لیکن کتے اور تیر میں فرق ہے کہ وہ اس شکار کو لگے یا کسی اور کو حرم میں۔
حدیث نمبر: 9990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: ⦗٣٣٢⦘ حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْأَوْزَاعِيَّ عَنْ رَجُلٍ أَرْسَلَ كَلْبَهُ فِي الْحِلِّ عَلَى صَيْدٍ فَدَخَلَ الصَّيْدُ الْحَرَمَ فَطَلَبَهُ الْكَلْبُ، فَأَخْرَجَهُ إِلَى الْحِلِّ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي فِيهَا شَيْءٌ أَنَا أَكْرَهُ التَّكَلُّفَ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو قُلْ فِيهَا، قَالَ: مَا أُحِبُّ أَكْلَهُ وَلَا أَرَى عَلَيْهِ أَنْ يَدِيَهُ، قَالَ عَبْدُ السَّلَامِ: وَتَيَسَّرَ لِي الْحَجُّ مِنْ عَامِي ذَلِكَ فَلَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ أَكْلَهُ وَلَا أَرَى عَلَيْهِ أَنْ يَدِيَهُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ فِي الَّذِي يُرْسِلُهُ عَلَى الصَّيْدِ مِنَ الْحِلِّ فِي الْحِلِّ فَتَحَامَلَ الصَّيْدُ، فَدَخَلَ الْحَرَمَ فَقَتَلَهُ فِيهِ الْكَلْبُ فَلَا يُجْزِيهِ وَلَا يَأْكُلُهُ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْكَلْبِ وَبَيْنَ السَّهْمِ يَجُوزُ فَيُصِيبُهُ أَوْ غَيْرَهُ فِي الْحَرَمِ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ گھل مل کر رہتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ”اے ابوعمیر! چڑیا نے کیا کیا۔“ یعنی اس کا جو پرندہ تھا۔