کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آدمی کسی شکار پر تیر چلائے اور وہ اسے یا کسی اور کو حرم میں جا لگے تو اس پر اس کی جزا (فدیہ) لازم ہونے کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى {تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: 94] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَزَعَمَ بَعْضُ أَهْلِ التَّفْسِيرِ أَنَّهُ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ بِالرَّمْيِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ﴾ ”تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے اس (شکار) تک پہنچ سکیں گے۔“ [سورة المائدة: 94]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ تیر اندازی کے ذریعے اس تک پہنچ سکیں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ تیر اندازی کے ذریعے اس تک پہنچ سکیں گے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: ٩٤] قَالَ: يَعْنِي النَّيْلَ، وَتَنَالُ أَيْدِيكُمْ أَيْضًا صِغَارَ الصَّيْدِ الْفِرَاخَ وَالْبَيْضَ، وَرِمَاحُكُمْ يَقُولُ: كِبَارُ الصَّيْدِ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ﴾ [سورة المائدة: 94] ”جس کو تم اپنے ہاتھوں اور برچھوں سے پکڑ سکتے ہو۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد پہنچنا ہے، اور تمہارے ہاتھ چھوٹے شکار یعنی بچوں اور انڈوں تک بھی پہنچتے ہیں، اور «رِمَاحُكُمْ» سے مراد بڑا شکار ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: ⦗٣٣٢⦘ حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْأَوْزَاعِيَّ عَنْ رَجُلٍ أَرْسَلَ كَلْبَهُ فِي الْحِلِّ عَلَى صَيْدٍ فَدَخَلَ الصَّيْدُ الْحَرَمَ فَطَلَبَهُ الْكَلْبُ، فَأَخْرَجَهُ إِلَى الْحِلِّ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي فِيهَا شَيْءٌ أَنَا أَكْرَهُ التَّكَلُّفَ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو قُلْ فِيهَا، قَالَ: مَا أُحِبُّ أَكْلَهُ وَلَا أَرَى عَلَيْهِ أَنْ يَدِيَهُ، قَالَ عَبْدُ السَّلَامِ: وَتَيَسَّرَ لِي الْحَجُّ مِنْ عَامِي ذَلِكَ فَلَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: " لَا أُحِبُّ أَكْلَهُ وَلَا أَرَى عَلَيْهِ أَنْ يَدِيَهُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ فِي الَّذِي يُرْسِلُهُ عَلَى الصَّيْدِ مِنَ الْحِلِّ فِي الْحِلِّ فَتَحَامَلَ الصَّيْدُ، فَدَخَلَ الْحَرَمَ فَقَتَلَهُ فِيهِ الْكَلْبُ فَلَا يُجْزِيهِ وَلَا يَأْكُلُهُ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْكَلْبِ وَبَيْنَ السَّهْمِ يَجُوزُ فَيُصِيبُهُ أَوْ غَيْرَهُ فِي الْحَرَمِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک شخص اپنے کتے کو حل میں شکار پر چھوڑتا ہے اور شکار جا کر حرم میں داخل ہو جاتا ہے، کتا اس کو تلاش کر کے پھر حل کی طرف نکال لیتا ہے اور قتل کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرے پاس اس بارے میں کچھ نہیں، میں تکلف کو ناپسند کرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے ابوعمرو! اس بارے میں کچھ فرمائیے۔ انہوں نے کہا: میں اس کے کھانے کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی میں سمجھتا ہوں کہ اس پر فدیہ ہے۔ عبدالسلام کہتے ہیں: اسی سال مجھے حج کی توفیق ملی تو میں ابن جریج سے ملا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں اس کو کھانا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی سمجھتا ہوں کہ اس پر فدیہ ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو حل سے حل میں شکار پر کتا چھوڑتا ہے، لیکن شکار گھسٹتا ہوا حرم میں داخل ہو جاتا ہے اور کتا اسے وہاں قتل کر دیتا ہے کہ اس پر فدیہ نہیں اور وہ اسے کھائے بھی نہیں، اور انہوں نے کتے اور تیر میں فرق کیا ہے کہ تیر آگے نکل کر حرم میں اس شکار کو یا کسی اور کو لگ جاتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو حل سے حل میں شکار پر کتا چھوڑتا ہے، لیکن شکار گھسٹتا ہوا حرم میں داخل ہو جاتا ہے اور کتا اسے وہاں قتل کر دیتا ہے کہ اس پر فدیہ نہیں اور وہ اسے کھائے بھی نہیں، اور انہوں نے کتے اور تیر میں فرق کیا ہے کہ تیر آگے نکل کر حرم میں اس شکار کو یا کسی اور کو لگ جاتا ہے۔