حدیث نمبر: 9986
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَلَغَنَا أَنَّ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْمَاءُ لَيْسَ بِشَيْءٍ يَزُولُ فَلَا يَعُودُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس (زمزم کے پانی) میں سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے (مزید) فرمایا: ”اور پانی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ختم ہو جائے تو پھر دوبارہ نہ آئے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے (مزید) فرمایا: ”اور پانی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ختم ہو جائے تو پھر دوبارہ نہ آئے۔“
حدیث نمبر: 9986
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٣١⦘ مُحَيْصِنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَهْدَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی جس کو گردن پر باندھ رکھا تھا اور ان کی چادر رکھی ہوئی تھی، پھر ان کے پاس ماء زمزم لایا گیا۔ انہوں نے اسے بار بار پیا۔ انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ کسی نے کہا: یہ ماء زمزم ہے۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ» ”ماء زمزم جس غرض سے پیا جائے گا (وہی حاصل ہوگی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ نے فتح مکہ سے پہلے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”ہمارے لیے ماء زمزم بھیجیں اور اسے بھولنا مت“، جبکہ آپ ﷺ مدینہ میں تھے، چنانچہ انہوں نے دو مشکیزے روانہ کیے۔
حدیث نمبر: 9987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَتَحَدَّثْنَا فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَامَ فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ تَلَبَّبَ بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ ثُمَّ شَرِبَ فَقَالُوا: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا مَاءُ زَمْزَمَ، وَقَالَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ " قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ تُفْتَحَ مَكَّةُ إِلَى سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو " أَنِ اهْدِ لَنَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَلَا يَتِرُكَ "، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِمُزَادَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ماء زمزم کو لے آتیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ ”رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے۔“ دوسروں نے ابوکریب سے روایت کیا ہے اور اس میں کچھ اضافہ ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ اس کو لوٹوں اور مشکیزوں میں لے جاتے اور آپ ﷺ بیماروں کو پلاتے اور ان کے اوپر ڈالتے تھے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلاد بن یزید نے متابعت نہیں کی۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خلاد بن یزید نے متابعت نہیں کی۔
حدیث نمبر: 9988
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَحْمِلُ مَاءَ زَمْزَمَ وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَزَادَ فِيهِ " حَمَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَدَاوِي وَالْقِرَبِ وَكَانَ يَصُبُّ عَلَى الْمَرْضَى وَيَسْقِيهِمْ "، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَلَا يُتَابَعُ خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ﴾ [سورة المائدة: 94] ”جس کو تم اپنے ہاتھوں اور برچھوں سے پکڑ سکتے ہو۔“ فرماتے ہیں: اس سے مراد نیزہ ہے، «تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ» سے مراد چھوٹا شکار ہے یعنی بچے اور انڈے، اور «رِمَاحُكُمْ» سے مراد بڑا شکار ہے۔