حدیث نمبر: 9951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيِّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ح وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عِيرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ مِنْهُ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ مِنْهُ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرن کو چرتا دیکھوں تو میں اس کو خوف زدہ نہ کروں گا، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان حرم ہے۔“
(ب) ابن مسیب رحمہ اللہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر میں دو پہاڑوں کے درمیان کسی ہرن کو چرتا دیکھوں تو اس کو خوف زدہ نہ کروں گا۔ اور مدینہ کے اردگرد ۱۲ میل تک چراگاہ ہے۔
(ب) ابن مسیب رحمہ اللہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر میں دو پہاڑوں کے درمیان کسی ہرن کو چرتا دیکھوں تو اس کو خوف زدہ نہ کروں گا۔ اور مدینہ کے اردگرد ۱۲ میل تک چراگاہ ہے۔
حدیث نمبر: 9952
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابو صالح، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عیر اور ثور کے درمیان مدینہ کا علاقہ حرم ہے۔ جس نے اس کے اندر بدعت کی یا بدعتی کو جگہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
حدیث نمبر: 9953
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الْغَضَائِرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ ⦗٣٢٢⦘ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عِيرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
احمد بن عبدالجبار رحمہ اللہ اپنی سند سے ذکر کرتے ہیں کہ ”ان کا فرض و نفل بھی قبول نہ کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 9954
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: " لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَائِدَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی۔ میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے اس کے مد اور صاع میں برکت کی دعا کی جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے۔“
حدیث نمبر: 9955
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُوسَى، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا، وَحَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَدَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم اپنے چچا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا، جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے اس کے مد اور صاع میں برکت کی دعا کی جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کے لیے دعا کی تھی۔“
حدیث نمبر: 9956
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ السِّنْدِيِّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ وَدَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِمَكَّةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے احد پہاڑ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 9957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْفَرَّاءُ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ الْمَكِّيُّ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے غزوہ خیبر کا طویل قصہ سنایا، جب احد ظاہر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ جب مدینہ کی طرف جھانکا تو فرمایا: ”اے اللہ! میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما۔“
حدیث نمبر: 9958
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ ⦗٣٢٣⦘ الشِّيرَازِيُّ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ خَيْبَرَ، قَالَ: فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ یہاں سے لے کر یہاں تک حرم اور امن کی جگہ ہے، نہ تو اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ ہی اس میں بدعت کی جائے اور جس نے بدعت کی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا فرض و نفل قبول نہ کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 9959
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَارِمٌ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَدِينَةَ حَرَمٌ آمِنٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا لَا يُقْطَعُ شَجَرُهَا، وَلَا يُحْدَثُ فِيهَا حَدَثٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، یہ حرم ہے، جس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرم قرار دیا ہے، اس کا گھاس نہ کاٹا جائے گا۔ جس نے یہ کام کیا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
حدیث نمبر: 9960
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا عَاصِمٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَحَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ هِيَ حَرَامٌ حَرَّمَهَا اللهُ وَرَسُولُهُ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ يَعْمَلْ بِذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ وَفِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ وَالْبَاقِي سَوَاءٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی شکار قتل کیا جائے“ اور فرمایا: ”مدینہ ان کے لیے بہتر ہے، اگر وہ جانتے اور جو کوئی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکلے تو اللہ اس میں بھلائی کو پیدا کر دے گا اور جو کوئی اس کی مشقت وغیرہ برداشت کرتے ہوئے اس میں ٹھہرا رہتا ہے، میں کل قیامت کے دن اس کا سفارشی اور گواہ ہوں گا۔“
حدیث نمبر: 9961
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا " وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَخْرُجُ عَنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً إِلَّا أَبْدَلَ اللهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 9962
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ. ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٢٤⦘ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ". يُرِيدُ الْمَدِينَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو مکہ، اس کے رہنے والوں اور حرم کا تذکرہ کیا۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آواز دی تو اس نے کہا: کیا بات ہے کہ میں تجھے سن رہا ہوں، تو مکہ، اس کے رہنے والوں اور اس کے حرم کا بیان کر رہا ہے لیکن تم نے مدینہ، اس کے رہنے والوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا، حالاں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا تھا“ اور یہ ہمارے پاس ہرنی کے چمڑے میں لکھا ہوا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں پڑھا دیتا ہوں، راوی کہتے ہیں: مروان خاموش ہوگئے، پھر کہا: میں نے بھی بعض باتیں سن رکھی ہیں۔
حدیث نمبر: 9963
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ " أنا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَكَرَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا؟ وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا وَذَلِكَ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ حَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ " قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے جیسے ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا۔“
(ب) وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہمارے ہاتھوں میں پرندوں کو پاتے، اس کو پکڑتے اور مٹھی کھول دیتے اور چھوڑ دیتے۔
(ب) وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہمارے ہاتھوں میں پرندوں کو پاتے، اس کو پکڑتے اور مٹھی کھول دیتے اور چھوڑ دیتے۔
حدیث نمبر: 9964
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ " قَالَ: وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَجِدُ فِي يَدَيْ أَحَدِنَا الطَّيْرَ فَيَأْخُذُهُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اسید بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”یہ احترام اور امن کی جگہ ہے۔“
حدیث نمبر: 9965
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَبَّانَ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَأَوْمَى بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ".
حافظ ثناء اللہ
یسیر بن عمرو، سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ مدینہ کی طرف جھکایا اور فرمایا: ”یہ حرم اور امن کی جگہ ہے۔“
حدیث نمبر: 9966
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: أَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ " ⦗٣٢٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کا شکار نہ کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 9967
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
یعلی بن عبدالرحمن بن ہرمز، عبداللہ بن عبادہ زرقی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اہاب کے کنویں پر چڑیوں کا شکار کرتے تھے جو وہاں تھیں، عبادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا، میں نے چڑیا پکڑ رکھی تھیں، انہوں نے مجھ سے چھین لیں اور چھوڑ دیں، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے“ اور عبادہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے۔
حدیث نمبر: 9968
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَادَةَ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ فَرَآنِي عُبَادَةُ وَقَدْ أَخَذْتُ عُصْفُورًا فَانْتَزَعَهُ مِنِّي، فَأَرْسَلَهُ وَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَكَّةَ "، وَكَانَ عُبَادَةُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے بم یا گولی کے ذریعے پرندوں کا شکار کیا، میں ان کو اپنے ہاتھوں میں لے کر نکلا تو مجھے سیدنا ابوعبدالرحمن (عبدالرحمن بن عوف) رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے پوچھا: ”تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے گولی یا بم سے پرندوں کا شکار کیا ہے، انہوں نے میرے کانوں کو خوب مسلا، رگڑا اور انہیں میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیا اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ان دو پہاڑوں“ یا فرمایا: ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔“
(ب) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے“ اور قصے کا تذکرہ نہیں کیا۔
(ب) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے“ اور قصے کا تذکرہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 9969
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اصْطَدْتُ طَيْرًا بِالْقُنْبُلَةِ فَخَرَجْتُ بِهِ فِي يَدِي فَلَقِيَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ: " مَا هَذَا فِي يَدِكَ؟ " قُلْتُ: طَيْرٌ اصْطَدْتُهُ بِالْقُنْبُلَةِ فَعَرَكَ أُذُنِي عَرْكًا شَدِيدًا وَاسْتَنْزَعَهُ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ، فَقَالَ: " حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ: يَعْنِي حَرَّتَيِ الْمَدِينَةِ، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ، وَفِي رِوَايَةِ الْمُؤَمَّلِيِّ، قَالَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا " يَعْنِي الْمَدِينَةَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِصَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے دو بچوں کو پایا جو مدینہ کے اطراف میں لومڑی کو مجبور یا خوف زدہ کر رہے تھے، تو انہوں نے ان کو اس لومڑی سے بھگایا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں مگر انہوں نے کہا: کیا اللہ کے رسول ﷺ کے حرم میں یہ کیا جا رہا ہے؟
(ب) امام مالک رحمہ اللہ ایک شخص سے روایت فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میں اسواف نامی جگہ پر تھا، میں نے «النُّهَس» (لٹور کے مانند ایک پرندہ جو ہمیشہ دم ہلاتا رہتا ہے اور چڑیوں کا شکار کرتا ہے) کا شکار کیا، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ سے پکڑ لیا اور چھوڑ دیا۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ ایک شخص سے روایت فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میں اسواف نامی جگہ پر تھا، میں نے «النُّهَس» (لٹور کے مانند ایک پرندہ جو ہمیشہ دم ہلاتا رہتا ہے اور چڑیوں کا شکار کرتا ہے) کا شکار کیا، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ سے پکڑ لیا اور چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 9970
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ، فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ قَالَ مَالِكٌ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فِي حَرَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْنَعُ هَذَا؟ " قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالْأَسْوَافِ وَقَدِ ⦗٣٢٦⦘ اصْطَدْتُ نَهَسًا فَأَخَذَهُ زَيْدٌ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ: النُّهَسَاءُ الطَّيْرُ الصَّغِيرُ فَوْقَ الْعُصْفُورِ شَبِيهٌ بِالْقُنْبَرَةِ، الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ، يُقَالُ هُوَ شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ولید کہتے ہیں کہ شرحبیل ابوسعید نے مجھے بیان کیا کہ وہ مدینہ کی جگہ اسواف میں داخل ہوا، اس نے ہنس پرندے کا شکار کیا۔ ان کے پاس سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آئے تو وہ پرندہ ان کے پاس ہی تھا، انہوں نے میرے کان ملے یا رگڑے پھر فرمایا: ”اس کا راستہ چھوڑو، تیری ماں نہ رہے! کیا تو جانتا نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے ان دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ میں شکار کو حرام قرار دیا ہے؟“
حدیث نمبر: 9971
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ الْأَسْوَافَ، مَوْضِعٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَاصْطَادَ بِهَا نَهَسًا يَعْنِي طَيْرًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ مَعَهُ، قَالَ: فَعَرَكَ أُذُنِي، ثُمَّ قَالَ: " خَلِّ سَبِيلَهُ لَا أُمَّ لَكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ صَيْدَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا؟ " وَيُرْوَى فِيهِ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ عقیق نامی جگہ کی طرف سوار ہو کر اپنے گھر گئے۔ انہوں نے ایک غلام کو پایا وہ درخت کاٹ رہا تھا، انہوں نے اس سے چھین لیا۔ جب وہ غلام گھر واپس گیا تو اس کے گھر والے آگئے۔ وہ سوال کر رہے تھے کہ واپس کریں جو ان کے غلام سے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ!“ کہ میں کوئی چیز واپس کروں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے غنیمت میں دی ہے اور ان کی طرف کچھ بھی واپس نہ کیا۔