کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ أَبُو عَوْفٍ الْبُزُورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا فَاسْتَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ يَسْأَلُونَهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ عَبْدِهِمْ، قَالَ: " مَعَاذَ اللهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَلَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ عقیق نامی جگہ کی طرف سوار ہو کر اپنے محل گئے۔ انہوں نے ایک غلام کو پایا وہ درخت کاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سامان چھین لیا۔ جب وہ واپس آئے تو اس غلام کے گھر والے آگئے۔ وہ سوال کر رہے تھے کہ وہ چیز واپس کریں جو ان کے غلام سے لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ!“ کہ میں کوئی چیز واپس کروں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے غنیمت میں دی ہے اور ان کی طرف کچھ بھی واپس نہ کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَوَجَدَ غُلَامًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن جعفر جو سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں، اسی طرح نقل فرماتے ہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا پتے جھاڑتے ہوئے پایا تو اس کا سامان چھین لیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ انہوں نے واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ وَلَدِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنَ الشَّجَرِ شَيْئًا، يَعْنِي ⦗٣٢٧⦘ شَجَرَ حَرَمِ الْمَدِينَةِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُقْطَعُ " قَالَ: فَرَأَى سَعْدٌ غِلْمَانًا يَقْطَعُونَ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ فَانْتَهُوا إِلَى مَوَالِيهِمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ غِلْمَانَكَ أَوْ مَوَالِيَكَ أَخَذُوا مَتَاعَ غِلْمَانِنَا، قَالَ: بَلْ أَنَا أَخَذْتُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ " وَلَكِنْ سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سعد کی اولاد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرمِ مدینہ سے درخت کاٹ رہا ہے، اس کی سلب یعنی سامان تمہارے لیے ہے۔ اس کے درختوں کا کاٹنا یا اکھاڑنا درست نہیں ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کچھ غلاموں کو درخت کاٹتے ہوئے پایا تو ان کا سامان لے لیا، وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئے اور انہیں خبر دی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس طرح کیا ہے۔ وہ آئے اور انہوں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کے غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں نے ہمارے غلاموں کا سامان چھین لیا ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: بلکہ میں نے ہی چھینا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم کے درخت کاٹ رہا ہو تو، اس کا سامان تمہارے لیے ہے“، لیکن تم میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ قَالَا: أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَجِدُ الْحَاطِبَ مَعَهُ شَجَرٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَدَهُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَيَأْخُذُ سَلَبَهُ فَيُكَلَّمُ فِيهِ فَيَقُولُ: " لَا أَدَعُ غَنِيمَةً غَنَّمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: " وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالًا " أَبُوهُ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ سے نکلتے تو کسی لکڑہارے کو پاتے جس کے پاس تر درخت ہوتا جو اس نے مدینہ کے درختوں میں سے کاٹا ہوتا، تو وہ اس کا سامان لے لیتے، اس کے بارے میں ان سے بات کی جاتی تو وہ کہتے: میں مالِ غنیمت نہ چھوڑوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا کیا ہے، اور فرمایا: اگرچہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مال والوں میں سے ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءُوا مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: " مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ "، فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَيْكُمْ ثَمَنَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن ابی عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، جس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس کے کپڑے چھین لیے۔ اس کے آقا آئے، انہوں نے اس کے بارے میں کلام کیا تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کو شکار کرتے پکڑ لیا وہ اس کا سامان لے لے۔“ میں تو وہ روزی جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا کی ہے ہرگز واپس نہ کروں گا، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں دے دیتا ہوں۔