کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کی گھاس اکھیڑی جائے سوائے اذخر (ایک قسم کی گھاس) کے۔
حدیث نمبر: 9944
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، قَالَ: وَأنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ، وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا "، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ ⦗٣١٩⦘ مَكَّةَ: " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهَا إِلَّا مَنْ عَرَّفْهَا " فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخَرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے مکہ کو حرم قرار دیا، یہ نہ مجھ سے پہلے حلال ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ صرف دن کی ایک گھڑی میں حلال قرار دیا گیا۔ اس کا گھاس، درخت نہ کاٹے جائیں گے، اس کا شکار نہ بھگایا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کروانے والا ہی اٹھا سکتا ہے“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اذخر گھاس ہمارے لوہاروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9944
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1736»
حدیث نمبر: 9945
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ "، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَبُيُوتِنَا، قَالَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”یہ حلال کیا گیا اور یہ ہمارے لوہاروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے لیے ہے“ اور عکرمہ رحمہ اللہ نے اضافہ کیا ہے کہ ”کیا جانتے ہو اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا کہ سایہ سے اس کو دور کر کے اس کی جگہ خود جانا۔“
(ب) محمد بن مثنیٰ رحمہ اللہ، عبدالوہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اور ہماری قبروں کے لیے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9945
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 9946
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَالْبُسْرِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ "، وَقَالَ: فَإِنَّهُ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُوفِ بُيُوتِنَا وَزَادَ قَالَ عِكْرِمَةُ: هَلْ تَدْرِي مَا لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا أَنْ يُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ وَيَنْزِلَ مَكَانَهُ؟، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان بندے کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے اور اس کے درختوں کو کاٹے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9946
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1735»
حدیث نمبر: 9947
وَرَوَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ أَبِي شُرَيْحٍ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں کا کاٹنا، کانٹوں کا اکھاڑنا، جائز نہیں حرام ہے اور گری پڑی چیز کو صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھا سکتا ہے۔“
(ب) سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! «الْإِذْخِرَ» ”اذخر“ کی اجازت دیں کیوں کہ یہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اذخر گھاس کی اجازت دے دی۔
(ج) مسلم بن ولید اوزاعی سے نقل فرماتے ہیں کہ ”اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور کانٹے نہ اکھاڑے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھا سکتا ہے۔“
(د) شیبان یحییٰ سے بیان کرتے ہیں کہ ”اس کے کانٹوں کو نہ روندا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9947
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 112»
حدیث نمبر: 9948
وَرَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " حَرَامٌ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى شَوْكَتُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو ⦗٣٢٠⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَكَرَهُ. وَقَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي مَسَاكِنِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ إِلَّا الْإِذْخِرَ " كَذَا قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ "، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ: " لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ "، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " لَا يُخْبَطُ شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا الْمُنْشِدُ "، وَكُلُّ ذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوَاضِعِهِ مِنَ الْكِتَابِ إِنْ شَاءَ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پہاڑ پر ایک آدمی درخت کاٹ رہا تھا، اس کو بلوایا۔ اس سے پوچھا: کیا تو جانتا نہیں کہ مکہ کے درخت اور اس کا گھاس نہیں کاٹا جاتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن مجھے تو اونٹ نے اس پر ابھارا ہے، جو ہمارا کمزور اونٹ ہے، اس نے اس کو اونٹ پر رکھ لیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آئندہ نہ کرنا اور اس کے اوپر کچھ رکھنا بھی نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9948
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي عروبه المناسك 26»
حدیث نمبر: 9949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى فَرَأَى رَجُلًا عَلَى جَبَلٍ يَعْضِدُ شَجَرًا فَدَعَاهُ، فَقَالَ: " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مَكَّةَ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا؟ " قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ بَعِيرٌ لِي نِضْوٌ، قَالَ: فَحَمَلَهُ عَلَى بَعِيرٍ وَقَالَ لَهُ لَا تَعُدْ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِ شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے حرم کا درخت کاٹا، وہ محرم ہو یا حلال، اس پر فدیہ ہے۔ چھوٹے درخت کے عوض ایک بکری اور بڑے درخت کے عوض گائے ہے۔ یہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے۔
(ب) ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور عطاء رحمہ اللہ اس بات پر متفق ہیں کہ بڑے درخت کے عوض گائے ہے۔
(ج) اور عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کسی درخت کے عوض بکری ہے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ موجود نہ ہو جس کو میں نے بیان کیا ہے تو وہ اس کے فدیہ میں اس کے برابر قیمت دے گا۔
(ح) عطاء رحمہ اللہ ایک آدمی کے متعلق فرماتے ہیں، جو حرم سے درخت کاٹتا تھا کہ پیلوں کے عوض ایک درہم اور بڑے درخت کے عوض ایک گائے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9949
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 9950
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ أَنَّ الرَّبِيعَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " مَنْ قَطَعَ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ شَيْئًا جَزَاهُ، حَلَالًا كَانَ أَوْ مُحْرِمًا فِي الشَّجَرَةِ الصَّغِيرَةِ شَاةٌ وَفِي الْكَبِيرَةِ بَقَرَةٌ " يُرْوَى هَذَا عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَطَاءٍ مُجْتَمِعَةً. وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ فِي الْإِمْلَاءِ: وَالْفِدْيَةُ فِي مُتَقَدِّمِ الْخَبَرِ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَطَاءٍ مُجْتَمِعَةٌ فِي أَنَّ فِي الدَّوْحَةِ بَقَرَةً، وَالدَّوْحَةُ: الشَّجَرَةُ الْعَظِيمَةُ، وَقَالَ عَطَاءٌ: فِي الشَّجَرَةِ دُونَهَا شَاةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَالْقِيَاسُ أَوَّلًا مَا وُصِفَ فِيهِ أَنَّهُ يَفْدِيهِ مَنْ أَصَابَهُ بِقِيمَتِهِ قَالَ الشَّيْخُ: رُوِّينَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الرَّجُلِ يَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ، قَالَ: " فِي الْقَضِيبِ دِرْهَمٌ، وَفِي الدَّوْحَةِ بَقَرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف رسول اللہ ﷺ سے قرآن اور جو اس صحیفہ میں موجود ہے تحریر کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ کا عیر اور ثور کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔ جس نے اس میں کوئی بدعت کی یا بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ اس سے فرض و نفل قبول نہ کریں گے۔ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے، ان کا ادنیٰ بھی اس کے ذریعے کوشش کر سکتا ہے اور جس نے مسلمان سے بے وفائی کی، عہد توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ اس سے فرض و نفل کو بھی قبول نہ کرے گا اور جس نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے دوستی کی، اس پر بھی اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ ان سے فرض و نفل قبول نہ کریں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9950
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1771»