حدیث نمبر: 9942
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُفَضَّلٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا أَحْرَمَ الرَّجُلُ وَعِنْدَهُ صَيْدٌ فَلْيَتْرُكْهُ " وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ: " يُرْسِلُهُ فَإِنْ ذَبَحَهُ فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
حماد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا گیا جو شکار کو ذبح کر لیتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اسے کھا لے اور اس پر فدیہ ہے اور اس کو پھینک دینا درست نہیں ہے، حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایوب رحمہ اللہ کو عمرو رحمہ اللہ کا یہ قول اچھا لگتا تھا۔ [صحیح]
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ مردار ہے، اسے نہ کھائے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حلال (آدمی) نہ کھائے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر فدیہ ہے، اور جب اس نے اسے کھایا تو اس کے برابر اس پر قیمت ہوگی۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شکار کو مکہ میں ذبح کیا جائے گا اور اسے کھایا نہیں جائے گا۔ ان سے پوچھا گیا: اس کا کیا بنے گا؟ انہوں نے کہا: اسے مردار کی جگہ ڈال دیا جائے گا۔
(د) حجاج کی روایت جو حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، انہوں نے اس شکار کا ذبح کیا جانا مکروہ جانا ہے جو حالتِ احرام میں جال کے ذریعے شکار کیا گیا۔
(ح) حجاج کی دوسری روایت میں ہے جو حضرت عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما، یہ سب شکار کو مکہ میں ذبح کرنے کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اسے ذبح خانہ میں داخل کرنے کو ناپسند نہیں کرتے تھے۔
(خ) حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حلال آدمی حرم میں شکار کرے تو اس کا حکم وہی ہوگا جو محرم کا ہوتا ہے، اور محرم آدمی جب حرم میں شکار کرے تو اس کو ایک کفارہ دینا پڑے گا۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ مردار ہے، اسے نہ کھائے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حلال (آدمی) نہ کھائے اور حضرت عطاء رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر فدیہ ہے، اور جب اس نے اسے کھایا تو اس کے برابر اس پر قیمت ہوگی۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شکار کو مکہ میں ذبح کیا جائے گا اور اسے کھایا نہیں جائے گا۔ ان سے پوچھا گیا: اس کا کیا بنے گا؟ انہوں نے کہا: اسے مردار کی جگہ ڈال دیا جائے گا۔
(د) حجاج کی روایت جو حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، انہوں نے اس شکار کا ذبح کیا جانا مکروہ جانا ہے جو حالتِ احرام میں جال کے ذریعے شکار کیا گیا۔
(ح) حجاج کی دوسری روایت میں ہے جو حضرت عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما، یہ سب شکار کو مکہ میں ذبح کرنے کو ناپسند کرتے تھے، لیکن اسے ذبح خانہ میں داخل کرنے کو ناپسند نہیں کرتے تھے۔
(خ) حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حلال آدمی حرم میں شکار کرے تو اس کا حکم وہی ہوگا جو محرم کا ہوتا ہے، اور محرم آدمی جب حرم میں شکار کرے تو اس کو ایک کفارہ دینا پڑے گا۔
حدیث نمبر: 9943
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سُئِلَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحْرِمٍ ذَبَحَ صَيْدًا، قَالَ: " يَأْكُلُهُ وَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ، إِلْقَاؤُهُ فَسَادٌ " قَالَ حَمَّادٌ: وَكَانَ أَيُّوبُ يُعْجِبُهُ قَوْلُ عَمْرٍو هَذَا، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " هُوَ مَيْتَةٌ لَا يَأْكُلُهُ "، وَعَنْ عَطَاءٍ: " لَا يَأْكُلُهُ الْحَلَالُ "، وَعَنْ عَطَاءٍ: " إِذَا أَصَابَ صَيْدًا فَعَلَيْهِ فِدْيَةٌ، وَإِذَا أَكَلَهُ فَعَلَيْهِ قِيمَةُ مَا أَكَلَ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَائِشَةَ، وَالْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالُوا فِي الصَّيْدِ يُذْبَحُ بِمَكَّةَ: " لَا يُؤْكُلُ "، قِيلَ: فَمَا يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: " يُطْرَحُ بِمَنْزِلَةِ الْمَيِّتِ "، وَفِي رِوَايَةِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُذْبَحَ الصَّيْدُ الَّذِي يُصَادُ فِي الْحِلِّ فِي الْحَرَمِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنَ، أَوِ الْحُسَيْنَ كَرِهُوا ذَبْحَ الصَّيْدِ بِمَكَّةَ وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يُدْخَلَ بِهِ مَذْبُوحًا، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أَصَابَ الْحَلَالُ فِي الْحَرَمِ الصَّيْدَ حُكِمَ عَلَيْهِ كَمَا يُحْكَمُ عَلَى الْمُحْرِمِ "، قَالَ: " وَالْمُحْرِمُ إِذَا أَصَابَ فِي الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت نہیں سوائے جہاد کے اور نیت ہے، جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکلو۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ شہر جس کو اللہ نے حرام قرار دیا، جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا تو اللہ کی حرمت کی وجہ سے وہ قیامت تک حرام ہی رہے گا۔ اس کا گھاس نہیں کاٹا جائے گا اور کانٹے دار درخت بھی نہ کاٹے جائیں گے، اس کا شکار بھگایا نہ جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کروانے والا اٹھا سکتا ہے۔“
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! صرف اذخر، وہ لوہاروں اور گھروں کے لیے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف اذخر۔“
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! صرف اذخر، وہ لوہاروں اور گھروں کے لیے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صرف اذخر۔“