کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: محرم زندہ شکار کا تحفہ قبول نہیں کرے گا جو اسے دیا جائے۔
حدیث نمبر: 9926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَا حُرُمٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، کہ انہوں نے نبی ﷺ کو ابواء یا ودان نامی جگہ پر ایک نیل گائے تحفہ میں دی اور رسول اللہ ﷺ محرم تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے واپس کر دیا، سیدنا صعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے تحفہ کی واپسی کے آثار میرے چہرے پر دیکھ لیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے صرف محرم ہونے کی وجہ سے واپس کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 9927
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الصَّعْبُ: فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّهُ هَدِيَّتِي فِي وَجْهِي، قَالَ: " لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابواء، یا ودان نامی جگہ سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو ایک نیل گائے تحفہ میں دی، جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرہ میں کراہت دیکھی تو فرمایا: ”کسی وجہ سے رد نہیں کیا گیا، میں محرم ہوں اس لیے رد کیا ہے۔“
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ اس نے نبی ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا، آپ ﷺ نے واپس کر دیا، آپ ﷺ نے اس کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”میں نے صرف محرم ہونے کی وجہ سے رد کیا ہے اور کوئی وجہ نہیں۔“
(ج) سفیان نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا تھا۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ اس نے نبی ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا، آپ ﷺ نے واپس کر دیا، آپ ﷺ نے اس کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”میں نے صرف محرم ہونے کی وجہ سے رد کیا ہے اور کوئی وجہ نہیں۔“
(ج) سفیان نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا تھا۔
حدیث نمبر: 9928
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَى لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنِّي مُحْرِمٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ وَمَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِمَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَخَالَفَهُمْ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَرَوَاهُ كَمَا:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں ابواء یا ودان نامی جگہ پر موجود تھا، میں نے آپ ﷺ کو نیل گائے تحفہ میں دی، آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا، جب آپ ﷺ نے میرے چہرے پر کراہت کے آثار محسوس کیے (تو فرمایا): ”میں نے صرف محرم ہونے کی وجہ سے واپس کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 9929
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَوْدًا وَبَدْءًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي وَهُوَ سَمَاعُ الْحُمَيْدِيِّ مِنْ سُفْيَانَ فِيمَا خَلَا ثُمَّ اضْطَرَبَ فِيهِ بَعْدُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نیل گائے تحفہ میں پیش کی، اور بعض اوقات کہتے ہیں کہ وہ خون گرا رہی تھی اور بعض اوقات کہتے ہیں کہ نیل گائے پھر اس کا گوشت حتیٰ کہ وہ فوت ہو گیا۔
حدیث نمبر: 9930
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ يَقُولُ فِي الْحَدِيثِ: أَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: يَقْطُرُ دَمًا، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ، وَكَانَ سُفْيَانُ فِيمَا خَلَا رُبَّمَا قَالَ: حِمَارَ وَحْشٍ، ثُمَّ صَارَ إِلَى لَحْمٍ حَتَّى مَاتَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو ایک نیل گائے تحفہ میں دی جس وقت آپ ﷺ محرم تھے، آپ ﷺ نے اس کو واپس کر دیا اور فرمایا: ”اگر ہم محرم نہ ہوتے تو آپ سے قبول کر لیتے۔“
حدیث نمبر: 9931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُوسَى، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ " ⦗٣١٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبِي كُرَيْبٍ، هَكَذَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ فَرَوَاهُ كَمَا:.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو نیل گائے کا ایک حصہ تحفہ میں دیا گیا تو آپ ﷺ نے واپس کر دیا کیوں کہ آپ ﷺ محرم تھے۔
حدیث نمبر: 9932
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، وَخَالَفَهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ فَرَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، كَمَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 9933
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ، أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو نیل گائے کی پشت والا حصہ تحفہ دیا، جب آپ ﷺ قدید نامی جگہ پر تھے اور محرم تھے۔ آپ ﷺ نے اس کو واپس کر دیا اور وہ خون بہا رہا تھا۔
(ب) سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو نیل گائے کی پشت والا حصہ تحفہ دیا، ان میں سے ایک کہتے ہیں کہ آپ قدید نامی جگہ پر تھے۔ دوسرے نے کہا کہ نیل گائے تھی، آپ ﷺ نے رد کر دیا۔
(ب) سعید بن جبیر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو نیل گائے کی پشت والا حصہ تحفہ دیا، ان میں سے ایک کہتے ہیں کہ آپ قدید نامی جگہ پر تھے۔ دوسرے نے کہا کہ نیل گائے تھی، آپ ﷺ نے رد کر دیا۔
حدیث نمبر: 9934
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَجُزَ حِمَارٍ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطُرُ دَمًا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَلَعَلَّ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، حَدِيثُ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ " عَجُزَ حِمَارٍ " وَحَدِيثُهُ عَنْ حَبِيبٍ " حِمَارَ وَحْشٍ " كَمَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَدْ رَوَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَحَدُهُمَا: " بِقُدَيْدٍ عَجُزَ حِمَارٍ "، وقَالَ الْآخَرُ: " حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ فَذَكَرَهُ، وَإِذَا كَانَتِ الرِّوَايَةُ هَكَذَا، وَافَقَتْ رِوَايَةُ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ رِوَايَةَ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، وَوَافَقَتْ رِوَايَةُ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ رِوَايَةَ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ فَيَكُونُ الْحَكَمُ مُنْفَرِدًا بِذِكْرِ اللَّحْمِ أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو نیل گائے کی ایک ٹانگ تحفہ میں دی، آپ ﷺ قدید نامی جگہ پر تھے۔ آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔
حدیث نمبر: 9935
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ ⦗٣١٦⦘ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ فَرَدَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو نیل گائے تحفہ میں دی، محرم کے لیے زندہ نیل گائے کو ذبح کرنا تو جائز نہیں اور اگر اس کو گوشت تحفہ میں دیا گیا تو اگر اسے معلوم ہو کہ اس نے اس کے لیے شکار کیا ہے تو وہ واپس کر دے جس کی وضاحت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کہ صعب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو گدھا تحفہ میں دیا، یہ زیادہ ثابت ہے اس حدیث سے جس میں بیان ہوا ہے کہ گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اس سے کھایا بھی تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کہ صعب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو گدھا تحفہ میں دیا، یہ زیادہ ثابت ہے اس حدیث سے جس میں بیان ہوا ہے کہ گدھے کا گوشت تحفہ میں دیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اس سے کھایا بھی تھا۔
حدیث نمبر: 9936
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ كَانَ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِمَارَ حَيًّا فَلَيْسَ لِمُحْرِمٍ ذَبْحُ حِمَارِ وَحْشٍ حَيٍّ، وَإِنْ كَانَ أَهْدَى لَهُ لَحْمًا فَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَلِمَ أَنَّهُ صِيدَ لَهُ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَإِيضَاحُهُ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَحَدِيثُ مَالِكٍ أَنَّ الصَّعْبَ أَهْدِيَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا أَثْبَتُ مِنْ حَدِيثِ مَنْ حَدَّثَ أَنَّهُ أَهْدَى لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ الصَّعْبِ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو نیل گائے کی پشت والا حصہ تحفہ میں دیا اور آپ ﷺ جحفہ کے مقام پر تھے۔ آپ ﷺ اور لوگوں نے اس سے کھایا اور محفوظ بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے زندہ کو تو واپس کر دیا اور گوشت قبول فرما لیا۔
حدیث نمبر: 9937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ، أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَهُوَ بِالْجُحْفَةِ فَأَكَلَ مِنْهُ، وَأَكَلَ الْقَوْمُ " وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَكَأَنَّهُ رَدَّ الْحِيَّ، وَقِيلَ: اللَّحْمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: مجھے شکار کے گوشت کے بارے میں بتائیں جو نبی ﷺ کو تحفہ دیا گیا جب آپ ﷺ محرم تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کو شکار والے گوشت کا ایک حصہ تحفہ میں دیا گیا جو آپ ﷺ نے واپس کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں حالتِ احرام میں اس کو نہیں کھاتا۔“
(ب) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے شکار کے گوشت کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو حالتِ احرام میں شکار کا گوشت دیا گیا جو آپ ﷺ نے واپس کر دیا۔
(ب) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ آئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے شکار کے گوشت کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو حالتِ احرام میں شکار کا گوشت دیا گیا جو آپ ﷺ نے واپس کر دیا۔
حدیث نمبر: 9938
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ ⦗٣١٧⦘ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟، قَالَ: فَقَالَ: أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: " إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَاصِمٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَدِمَ فَأَتَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَفْتَاهُ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ، فَقَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن عبداللہ بن حارث اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حارث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے طائف پر نگران و خلیفہ تھے۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا بنایا۔ اس میں چکوروں اور نیل گائے کا گوشت شامل کیا، انہوں نے اسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا، قاصد آیا تو وہ اپنے اونٹوں کے لیے اپنے ہاتھ سے پتے جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: کھاؤ۔ انہوں نے فرمایا: حلال لوگوں کو کھلاؤ، ہم تو محرم ہیں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ کی قسم دیتا ہوں جو بھی یہاں موجود ہے، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کو نیل گائے کی ایک ٹانگ پیش کی گئی۔ آپ ﷺ محرم تھے تو کیا آپ ﷺ نے اس سے کچھ بھی کھایا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
(ب) صعب بن جثامہ کا قصہ کہ نیل کا گوشت تحفہ میں دیا، لیکن سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف ہے کہ محرم کے لیے مطلق طور پر کھانا حرام ہے۔ ان دونوں کی مخالفت سیدنا عمر، عثمان، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کرتے ہیں۔ ان کی دلیل سیدنا جابر اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
(ب) صعب بن جثامہ کا قصہ کہ نیل کا گوشت تحفہ میں دیا، لیکن سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف ہے کہ محرم کے لیے مطلق طور پر کھانا حرام ہے۔ ان دونوں کی مخالفت سیدنا عمر، عثمان، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کرتے ہیں۔ ان کی دلیل سیدنا جابر اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 9939
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَكَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَعَامًا، وَصَنَعَ فِيهِ مِنَ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلُحُومِ الْوَحْشِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ وَهُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَهُ فَجَاءَهُ وَهُوَ يَنْقُضُ الْخَبْطَ مِنْ يَدِهِ فَقَالُوا لَهُ: كُلْ، فَقَالَ: " أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلَالًا فَإِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ " ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْشُدُ اللهَ مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ وَتَأْوِيلُ هَذَيْنِ الْمُسْنَدَيْنِ مَا ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي تَأْوِيلِ حَدِيثِ مَنْ رَوَى فِي قِصَّةِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَيْهِ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ، وَأَمَّا عَلِيٌّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَإِنَّهُمَا ذَهَبَا إِلَى تَحْرِيمِ أَكْلِهِ عَلَى الْمُحْرِمِ مُطْلَقًا، وَقَدْ خَالَفَهُمَا عُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَغَيْرُهُمْ وَمَعَهُمْ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، وَجَابِرٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اے بھتیجے! یہ دس راتیں ہیں، اگر دل کو کوئی چیز اس طرح کھینچے تو اس کو چھوڑ دینا۔ (ان کی مراد شکار کا گوشت تھا)۔
حدیث نمبر: 9940
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: " يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا هِيَ عَشْرُ لَيَالٍ، فَإِنْ يَخْتَلِجْ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ " يَعْنِي أَكْلَ لَحْمِ الصَّيْدِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور شکار کے گوشت کے متعلق سوال کیا جو حلال مُحرِم کو تحفہ دیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کا اس میں اختلاف ہے، بعض تو ناپسند کرتے ہیں اور بعض اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، لیکن اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 9941
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عبَدِ اللهِ بْنِ شَمَّاسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لَحْمِ الصَّيْدِ يُهْدِيهِ الْحَلَالُ لِلْحَرَامِ فَقَالَتْ: " اخْتَلَفَ فِيهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَه بَعْضُهُمْ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ بَأْسًا وَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی محرم ہو اور اس کے پاس شکار ہو تو وہ اس کو چھوڑ دے۔
(ب) حسن بیان کرتے ہیں کہ وہ شکار کو چھوڑ دے، اگر اس نے ذبح کر دیا تو اس پر فدیہ ہے۔
(ب) حسن بیان کرتے ہیں کہ وہ شکار کو چھوڑ دے، اگر اس نے ذبح کر دیا تو اس پر فدیہ ہے۔