حدیث نمبر: 9778
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَسَوِيُّ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ، أَوْ زَيْدُ بْنُ نُعَيْمٍ - شَكَّ أَبُو تَوْبَةَ - أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُذَامٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا مُحْرِمَانِ، فَسَأَلَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمَا: " اقْضِيَا نُسُكَكُمَا، وَأَهْدِيَا هَدْيًا ثُمَّ ارْجِعَا حَتَّى إِذَا جِئْتُمَا الْمَكَانَ الَّذِي أَصَبْتُمَا فِيهِ مَا أَصَبْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلَا يَرَى وَاحِدٌ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ، وَعَلَيْكُمَا حَجَّةٌ أُخْرَى فَتُقْبِلَانِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمَا بِالْمَكَانِ الَّذِي أَصَبْتُمَا فِيهِ مَا أَصَبْتُمَا فَأَحْرِمَا، وَأَتِمَّا نُسُكَكُمَا وَأَهْدِيَا " هَذَا مُنْقَطِعٌ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ الْأَسْلَمِيُّ بِلَا شَكٍّ، وَقَدْ رُوِيَ مَا فِي حَدِيثِهِ أَوْ أَكْثَرُهُ ⦗٢٧٣⦘ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن نعیم یا زید بن نعیم (راوی ابو توبہ کو شک ہے) فرماتے ہیں کہ جزام قبیلہ کے ایک مرد نے حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لی، پھر اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم حج کے مناسک پورے کرو اور قربانی کرو، پھر تم دونوں واپس پلٹ کر اسی جگہ پہنچ جاؤ جس جگہ تم سے گناہ سرزد ہوا تھا، پھر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاؤ کہ تم دونوں میں سے کوئی دوسرے کو دیکھ نہ سکے اور آئندہ سال تم پر حج کرنا لازم ہے، پھر آئندہ سال جب تم اسی جگہ پر آ جاؤ تو احرام باندھ کر مناسکِ حج ادا کرو اور قربانی دو۔“
حدیث نمبر: 9779
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ، فَقَالُوا: " يَنْفُذَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا، ثُمَّ عَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ "، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَإِذَا أَهَلَّا بِالْحَجِّ عَامَ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں خبر ملی کہ سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے حج کے احرام کی حالت میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تھی، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ دونوں اپنی حالت پر ہی رہیں گے یہاں تک کہ حج کو مکمل کر لیں، لیکن آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے اور قربانی کرنا بھی، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ آئندہ سال حج کا تلبیہ کہیں گے تو حج مکمل کرنے تک ایک دوسرے سے جدا رہیں گے۔
حدیث نمبر: 9780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ فِي مُحْرِمٍ بِحَجَّةٍ أَصَابَ امْرَأَتَهُ يَعْنِي وَهِيَ مُحْرِمَةٌ قَالَ: " يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ مِنْ حَيْثُ كَانَا أَحْرَمَا، وَيَفْتَرِقَانِ حَتَّى يُتِمَّا حَجَّهُمَا " قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: وَعَلَيْهِمَا بَدَنَةٌ إِنْ أَطَاعَتْهُ أَوِ اسْتَكْرَهَهَا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمَا بَدَنَةٌ وَاحِدَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میاں بیوی دونوں احرام کی حالت میں مجامعت کر لیں تو وہ دونوں حج کو پورا کریں گے، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، جہاں سے انہوں نے احرام باندھا تھا اور دونوں جدا رہیں گے جب تک وہ حج کو مکمل نہ کر لیں۔
عطاء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اطاعت کی یا وہ مجبور ہوئی تب بھی دونوں میاں بیوی پر ایک قربانی ہے۔
عطاء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اطاعت کی یا وہ مجبور ہوئی تب بھی دونوں میاں بیوی پر ایک قربانی ہے۔
حدیث نمبر: 9781
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهِ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْفَقِيهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا، عَنِ الْمُحْرِمِ يُوَاقِعُ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَجِّهِمَا، ثُمَّ يَرْجِعَانِ حَلَالًا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ فَإِذَا كَانَا مِنْ قَابِلٍ حَجَّا وَأَهْدَى وَتَفَرَّقَا فِي الْمَكَانِ الَّذِي أَصَابَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن یزید بن جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھتا ہے تو انہوں نے فرمایا: ایسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا، فرماتے ہیں: یہ دونوں (میاں بیوی) اپنے حج کو پورا کریں گے۔ (واللہ اعلم) اللہ ان کے حج کے بارے میں خوب جانتا ہے، پھر جب وہ واپس آئیں گے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، لیکن جب آئندہ سال ہوگا تو دونوں (میاں بیوی) دوبارہ حج کریں گے اور قربانی کریں گے اور اسی جگہ سے جدا ہوں گے جس جگہ ان سے گناہ سرزد ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 9782
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، قَالَ: " اقْضِيَا نُسُكَكُمَا وَارْجِعَا إِلَى بَلَدِكُمَا فَإِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ فَاخْرُجَا حَاجَّيْنِ، فَإِذَا أَحْرَمْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلَا تَلْتَقِيَا حَتَّى تَقْضِيَا نُسُكَكُمَا وَأَهْدِيَا هَدْيًا " وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ " ثُمَّ أَهِلَّا مِنْ حَيْثُ أَهْلَلْتُمَا أَوَّلَ مَرَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے کہ وہ دونوں حج کے مناسک پورے کر کے اپنے شہر کو واپس پلٹیں، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کے لیے نکلیں، جب دونوں احرام باندھ لیں تو پھر ایک دوسرے سے حج کے پورا کرنے اور قربانی کرنے تک ملاقات نہ کریں۔
(ب) ابوطفیل رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ پھر وہ وہاں سے تلبیہ کہیں جہاں سے انہوں نے پہلی مرتبہ کہا تھا۔
(ب) ابوطفیل رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ پھر وہ وہاں سے تلبیہ کہیں جہاں سے انہوں نے پہلی مرتبہ کہا تھا۔
حدیث نمبر: 9783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي وَقَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَسْأَلُهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَةٍ فَأَشَارَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: " اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ فَسَلْهُ " قَالَ شُعَيْبٌ: فَلَمْ يَعْرِفْهُ الرَّجُلُ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: " بَطُلَ حَجُّكَ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَمَا أَصْنَعُ؟، قَالَ: " اخْرُجْ مَعَ النَّاسِ وَاصْنَعْ مَا يَصْنَعُونَ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ قَابِلًا فَحُجَّ وَأَهْدِ "، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ، قَالَ شُعَيْبٌ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ: مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ: " قَوْلِي مِثْلُ مَا قَالَا " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ سَمَاعِ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے محرم کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کر لیتا ہے تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کر دیا کہ ان سے پوچھو! شعیب کہتے ہیں کہ وہ ان کو جانتا نہ تھا، میں اس کے ساتھ گیا تو اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو فرمانے لگے: تیرا حج باطل ہے، تو آدمی کہنے لگا: پھر میں کیا کروں؟ فرمانے لگے: لوگوں کے ساتھ نکل کر ویسا ہی کرو جیسا لوگ کر رہے ہیں۔ جب آئندہ سال ہو تو حج اور قربانی کرنا۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی طرف واپس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے ان کو بتایا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اس کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا کہ ان سے سوال کرو تو شعیب فرماتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا۔ اس نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح جواب دیا، پھر وہ دوبارہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا تو جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا تھا مکمل بتا دیا۔ پھر اس نے کہا: آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: جو ان دو (یعنی ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا، وہی میں کہتا ہوں۔
حدیث نمبر: 9784
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو فَسَأَلَهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، قَالَ: فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: " إِنْ يَكُنْ أَحَدٌ يُخْبِرُهُ فِيهَا بِشَيْءٍ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يَقْضِيَانِ مَا بَقِيَ مِنْ نُسُكِهِمَا فَإِذَا كَانَ قَابِلٌ حَجَّا، فَإِذَا أَتَيَا الْمَكَانَ الَّذِي أَصَابَا فِيهِ مَا أَصَابَا تَفَرَّقَا وَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا هَدْيٌ " أَوْ قَالَ: " عَلَيْهِمَا الْهَدْيُ " قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: هَكَذَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بنو عبدالدار قبیلہ کے ایک آدمی سے سنا کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے محرم آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے تو انہوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر اس کے بارے میں کچھ بتادیں تو وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ حج کے باقی مناسک ادا کریں لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، لیکن جب اس جگہ آئیں جہاں پر ان سے گناہ سر زد ہوا تھا تو وہاں سے جدا ہوجائیں اور ان دو میں سے ہر ایک پر قربانی ہے یا فرمایا: ان دونوں پر قربانی لازم ہے۔ ابو بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بیان کیا تو وہ کہنے لگے: ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 9785
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً أنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِيَادٍ، أَخْبَرَهُمْ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا، وَامْرَأَتَهُ مِنْ قُرَيْشٍ لَقِيَا ابْنَ عَبَّاسٍ بِطَرِيقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَمَّا حَجُّكُمَا هَذَا فَقَدْ بَطُلَ فَحُجَّا عَامًا قَابِلًا، ثُمَّ أَهِلَّا مِنْ حَيْثُ أَهْلَلْتُمَا حَتَّى إِذَا بَلَغْتُمَا حَيْثُ وَقَعْتَ عَلَيْهَا فَفَارِقْهَا فَلَا تَرَاكَ وَلَا تَرَاهَا حَتَّى تَرْمِيَا الْجَمْرَةَ وَأَهْدِ نَاقَةً، وَلْتُهْدِ نَاقَةً ".
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نے ان کو خبر دی کہ قریش کا ایک مرد اور عورت مدینہ کے راستے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے، اس شخص نے کہا: میں اپنی بیوی سے مجامعت کر چکا ہوں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارا یہ حج باطل ہے اور آئندہ سال حج کرنا، پھر وہیں سے تلبیہ کہنا جہاں سے تم نے شروع کیا تھا، جب تم اس جگہ پہنچ جاؤ جہاں پر تم سے گناہ سرزد ہوا تھا تو پھر اپنی بیوی سے جدا ہو جانا، تو اس کو (بیوی) نہ دیکھے اور تیری بیوی تجھے نہ دیکھ سکے، جب تک تم رمی نہ کر لو، پھر ایک قربانی پیش کرنا اور تمہاری بیوی بھی۔
حدیث نمبر: 9786
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا جَامَعَ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بَدَنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ (محرم) مجامعت کرلیتا ہے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ذمہ قربانی ہے۔
حدیث نمبر: 9787
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " يُجْرَى بَيْنَهُمَا جَزُورٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں (میاں بیوی) کی طرف سے ایک اونٹنی کفایت کر جائے گی۔
حدیث نمبر: 9788
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي قَبْلَ أَنْ أَزُورَ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَتْ أَعَانَتْكَ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا نَاقَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ، وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تُعِنْكَ فَعَلَيْكَ نَاقَةٌ حَسْنَاءُ جَمْلَاءُ " وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ أَنَّهُ قَالَ: " يُتِمَّانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَإِنْ كَانَ ذَا مَيْسَرَةٍ أَهْدَى جَزُورًا "، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ " يَفْتَرِقَانِ وَلَا يَجْتَمِعَانِ حَتَّى يَفْرُغَا مِنْ حَجِّهِمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، یعنی مجامعت کر لی، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیری مدد کی ہے تو پھر تم دونوں پر ایک بہترین خوبصورت اونٹنی کی قربانی ہے۔ اگر تیری بیوی نے اس معاملہ میں تیرا تعاون نہیں کیا تو پھر صرف تیرے ذمہ ایک خوبصورت اور بہترین اونٹنی کی قربانی ہے۔
(ب) جابر بن زید ابو شعثاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔
(ب) جابر بن زید ابو شعثاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس حج کو پورا کریں اور آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے۔ اگر وہ مال دار ہیں تو ایک اونٹ کی قربانی بھی کریں۔
(ج) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ دونوں جدا ہوں گے اور حج کو مکمل کرنے تک اکٹھے نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 9789
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا، قَالَ سَعِيدٌ: إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ النَّاسِ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَى عَامِ قَابِلٍ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: " لِيَنْفُذَا لِوُجُوهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَا، فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا، وَإِذَا أَدْرَكَهُمَا الْحَجُّ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ، وَيُهِلَّا مِنْ حَيْثُ كَانَا أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي كَانَا أَفْسَدَا وَيَتَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ اس شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے؟ تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک محرم آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تو اس نے ان کو مدینہ روانہ کیا کہ اس کے بارے میں سوال کرے، تو کچھ لوگوں نے جواب دیا کہ آئندہ سال تک ان میں کروا دی جائے، تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی حالت پر ہی رہیں گے، لیکن وہ حج پورا کریں گے جو ان دونوں نے خراب کیا، پھر جب ان کو حج کا فریضہ پا لے تو ان پر حج اور قربانی کرنا ہے، پھر وہاں سے حج کا تلبیہ کہنا شروع کریں جہاں سے پہلے حج کا تلبیہ کہنا شروع کیا تھا، جس کو انہوں نے باطل کر دیا اور وہ دونوں جدا رہیں گے یہاں تک کہ حج مکمل کر لیں۔