کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان کا بیان جنہوں نے ماہِ محرم کو ”صفر“ کہنے کو مکروہ قرار دیا، اور اس بات کا بیان کہ نسیء (مہینوں کو آگے پیچھے کرنا) ایامِ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 9772
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ: صَفَرٌ وَلَكِنْ يُقَالُ لَهُ: الْمُحَرَّمُ وَإِنَّمَا كَرِهْتُ أَنْ يُقَالَ لِلْمُحَرَّمِ: صَفَرٌ مِنْ قِبَلِ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَعْدُونَ فَيَقُولُونَ: صَفَرَانِ لِلْمُحَرَّمِ وَصَفَرٍ، وَيَنْسَئُونَ فَيَحُجُّونَ عَامًا فِي شَهْرٍ وَعَامًا فِي غَيْرِهِ، وَيَقُولُونَ: إِنْ أَخْطَأْنَا مَوْضِعَ الْحُرُمِ فِي عَامٍ أَصَبْنَاهُ فِي غَيْرِهِ فَأَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ} [التوبة: ٣٧] الْآيَةَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَلَا شَهْرَ يُنْسَأُ " وَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَرَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محرم کو صفر کہنا مکروہ خیال کرتا ہوں، اس کو محرم ہی کہا جائے اور صفر کو محرم کہنا صرف اس لیے مکروہ خیال کرتا ہوں کہ جاہلیت والے دو مہینوں یعنی صفر اور محرم کو صفر ہی شمار کرتے تھے اور محرم و صفر کو آگے پیچھے کر لیتے تھے؛ ایک سال حج کے مہینہ میں حج کرتے اور دوسرے سال کسی اور مہینہ میں، اور کہتے تھے کہ اس سال محرم کی جگہ پر ہم سے غلطی ہوگئی، آئندہ سال درست کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا کفر میں زیادتی ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس دن اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا کیا تھا۔“ ابھی کسی مہینہ کو آگے پیچھے نہ کیا جائے گا اور اس کا نام نبی ﷺ نے محرم رکھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9772
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 9773
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بِذَلِكَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ " ثُمَّ قَالَ: " أِيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَأِيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ⦗٢٧١⦘ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ؟ " قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: " فَأِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ " قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ " قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: " وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضُ مَنْ يَبْلُغُهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ " ثُمَّ قَالَ: " أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ " لَمْ يَسُقِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مَتْنَهُ وَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمانہ گھوم کر اسی حالت پر آگیا ہے، جس دن اللہ رب العزت نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ سال بھر میں بارہ مہینے ہیں: چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین مسلسل ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب قبیلہ مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کیا شاید آپ ﷺ اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ ہم نے گمان کرلیا شاید آپ ﷺ اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ خاص شہر یعنی مکہ نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے، ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس کا کوئی دوسرا نام رکھیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے خون و اموال،“ راوی محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر اور مہینہ کے اندر ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے، وہ تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، یعنی قتل کرو۔ خبردار! حاضر غائب تک یہ بات پہنچا دے۔ شاید کہ جس کو بات پہنچی ہے وہ زیادہ یاد رکھے سننے والے سے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ متن بیان نہیں کیا۔
(ب) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمانہ گھوم آیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9773
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3025۔ مسلم1679»
حدیث نمبر: 9774
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ} [التوبة: ٣٧] قَالَ: " النَّسِيءُ أَنَّ جُنَادَةَ بْنَ عَوْفِ بْنِ أُمَيَّةَ الْكِنَانِيَّ كَانَ يُوَافِي الْمَوْسِمَ كُلَّ عَامٍ وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا ثُمَامَةَ فَيُنَادِي أَلَا إِنَّ أَبَا ثُمَامَةَ لَا يُحَابُ وَلَا يُعَابُ، أَلَا وَإِنَّ عَامَ صَفَرٍ الْأَوَّلِ الْعَامَ حَلَالٌ، فَيُحِلُّهُ لِلنَّاسِ فَيُحَرِّمُ صَفَرًا عَامًا وَيُحَرِّمُ الْمُحَرَّمَ عَامًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا} [التوبة: ٣٧] إِلَى قَوْلِهِ {لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ} [البقرة: ٢٦٤].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے ارشاد ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جنادہ بن عوف بن امیہ کنانی ہر سال حج کے زمانہ میں آتے، ان کی کنیت ابوثمامہ تھی، وہ اعلان کرتے کہ ابوثمامہ سے نہ تو محبت کی جاتی ہے اور نہ ہی عیب لگایا جاتا ہے۔ خبردار! وہ صفر کے مہینہ کو لوگوں کے لیے ایک سال حلال قرار دیتے اور ایک سال حرمت والا گردانتے اور ماہِ محرم کو ایک سال حرمت والا شمار کرتے تھے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا ... لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے وہ لوگ گمراہ ہوئے جنہوں نے کفر کیا، وہ ایک سال اس کو حلال خیال کرتے تھے اور اللہ کافر کو ہدایت نہیں دیتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9774
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ الطبري في تفسيره 6/ 368»
حدیث نمبر: 9775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ، يَقُولُ: " لَيْسَ هُوَ شَهْرًا يُنْسَأُ قَدْ تَبَيَّنَ الْحَجُّ لَا شَكَّ فِيهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُسْقِطُونَ الْمُحَرَّمَ ثُمَّ يَقُولُونَ صَفَرٌ بِصَفَرٍ، وَيُسْقِطُونَ شَهْرَ رَبِيعٍ الْأَوَّلَ ثُمَّ يَقُولُونَ: شَهْرُ رَبِيعٍ بِشَهْرِ رَبِيعٍ " قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفُوا فِي حَجِّ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَبْلَ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ كَانَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ أَوْ فِي ذِي الْحِجَّةِ؟، فَذَهَبَ مُجَاهِدٌ إِلَى أَنَّهُ وَقَعَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَنَّهُ وَقَعَ فِي ذِي الْحِجَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو نجیح، مجاہد رحمہ اللہ سے ﴿الرَّفَثُ﴾ اور ﴿الْفُسُوقُ﴾ [سورة البقرة: 197] کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ «الرَّفَثُ» سے مراد جماع ہے، «الْفُسُوقُ» سے مراد نافرمانی ہے اور ایامِ حج میں جھگڑا نہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ ایسا مہینہ نہیں جس کو مقدم اور مؤخر کریں، بلکہ حج کا مہینہ واضح ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ محرم کے مہینے کو ویسے گرا دیتے تھے یعنی ساقط کر دیتے۔ پھر وہ کہتے: صفر تو صفر کے بدلے میں ہے اور کبھی ماہِ ربیع الاول کو ساقط کر دیتے اور ربیع الثانی کا نام دے دیتے۔
شیخ فرماتے ہیں: نبی ﷺ کے حج سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حج کے بارے میں اختلاف ہے کہ انہوں نے ذی القعدہ یا ذی الحجہ میں حج کیا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ذی القعدہ میں انہوں نے حج کیا، جب کہ بعض کے نزدیک ذوالحجہ ہی میں حج کیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9775
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن شيبه 13226»
حدیث نمبر: 9776
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ ⦗٢٧٢⦘ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حِكَايَةً عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ} [التوبة: ٣٧] قَالَ: حَجُّوا فِي ذِي الْحِجَّةِ عَامَيْنِ، ثُمَّ حَجُّوا فِي الْمُحَرَّمِ عَامَيْنِ فَكَانُوا يَحُجُّونَ فِي كُلِّ سَنَةٍ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَامَيْنِ حَتَّى وَافَقَتْ حَجَّةُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْآخِرَ مِنَ الْعَامَيْنِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ قَبْلَ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَةٍ، ثُمَّ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَابِلٍ فِي ذِي الْحِجَّةِ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ: " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبداللہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے۔“ انہوں نے ذوالحجہ میں دو سال حج کیا۔ پھر دو سال محرم میں حج کیا۔
پھر انہوں نے ہر سال ایک مہینہ (یعنی محرم یا ذوالحجہ) میں دو سال تک حج کیا، پھر آخری دو سالوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حج ذی القعدہ میں ہوا۔ نبی ﷺ کے حج سے ایک سال پہلے، پھر نبی ﷺ نے آئندہ سال ذی الحجہ میں حج ادا کیا، اس وقت نبی ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ ”زمانہ اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا ہے جب سے اللہ رب العزت نے آسمانوں و زمین کو پیدا فرمایا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9776
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 9777
قَالَ: أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: فَأَمَّا الزُّهْرِيُّ فَحُكِيَ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي مُؤَذِّنِينَ يَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًى " أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ إِسْنَادُهُ إِسْنَادٌ جَيِّدٌ، وَإِنَّمَا كَانَتْ حَجَّةُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذِي الْحِجَّةِ عَلَى مَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَدْ نَزَلَتْ سُورَةُ بَرَاءَةَ قَبْلَ حَجَّةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَفِيهَا {إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ} [التوبة: ٣٧]، وَفِيهَا {إنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا} [التوبة: ٣٦] فَهَلْ كَانَ يَجُوزُ أَنْ يَحُجَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى حَجِّ الْعَرَبِ وَقَدْ أَخْبَرَ اللهُ أَنَّ فِعْلَهُمْ ذَلِكَ كَانَ كُفْرًا؟.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر قربانی کے دن منیٰ کے میدان میں اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا کہ ”آئندہ سال مشرک حج نہ کریں اور نہ ہی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کیا جائے۔“
(ب) ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ زہری کی حدیث کی سند جید ہے، لیکن اس میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حج ذوالحجہ میں تھا۔ ابوعبداللہ فرماتے ہیں کہ سورہ براءت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حج سے پہلے نازل ہوئی، اس میں ہے: ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ [سورة التوبة: 37] ”مہینہ کا سرکا دینا اور زیادہ کفر ہے“ اس میں ہے: ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا﴾ [سورة التوبة: 36] ”اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ماہ ہے۔“ کیا یہ جائز ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج عرب کے (قدیم) طریقہ پر کیا ہو جب کہ اللہ نے ان کے فعل کو کفر قرار دیا ہے؟
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9777
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 362۔ مسلم 1347»