کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے حج نہ کرنے والے کو ”صرورہ“ کہنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ يُقَالُ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ وَرَازٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ " أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں صرورت نہیں ہے۔“
وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقَالَ لِلْمُسْلِمِ: صَرُورَةٌ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ فَذَكَرَهُ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ مِنْ قَوْلِهِ وَنَفَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي رِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ يَلْطِمُ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَيَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ لَهُ دَعُوا الصَّرُورَةَ لِجَهْلِهِ وَإنْ رُمِيَ بِجَعْرِهِ فِي رِجْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ " وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: يَلْطِمُ وَجْهَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ: رُدُّوا صَرُورَةَ وَجْهِهِ وَلَوْ أَلْقَى سَلْحَهُ فِي رِجْلِهِ، ⦗٢٧٠⦘ وَرُوِيَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ تَارَةً، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ أَخِي جُبَيْرٍ، وَتَارَةً عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا صَرُورَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ”مسلمان کو «صَرُورٌ» (صرور) کہا جائے“، اسی کو سفیان بن عیینہ نے عمرو عکرمہ نے نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت کیا ہے۔ ابن جریج نے عکرمہ کا قول بنا کر نقل کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا نبی کریم ﷺ کا قول ہے اور ابن عیینہ وغیرہ کی روایت میں عکرمہ سے منقول ہے کہ آدمی جاہلیت میں دوسرے کو تھپڑ مارتا اور کہتا میں «صَرُورَةٌ» (بندھا ہوا) ہوں تو اس کو کہا جاتا: اس کی جہالت کے لیے بندھا رہنے دو، خواہ وہ اپنی لید اپنے پاؤں پر ہی مار لے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں «لَا صَرُورَةَ» (بندھا رہنا) نہیں ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آدمی اپنے چہرے پر مارتا، پھر کہتا کہ میں بندھا ہوا ہوں تو کہا جاتا: اس کے چہرے کو بندھا رہنے دو خواہ یہ اپنا گوبر اپنے پاؤں پر گرا لے۔
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ: ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے، «لَا صَرُورَةَ» (بندھنا) نہیں ہے۔“
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ: ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے، «لَا صَرُورَةَ» (بندھنا) نہیں ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي صَرُورَةٌ " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ: لَمْ يَرْفَعْهُ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا مُعَاوِيَةُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً بیان فرماتے ہیں کہ: ”تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے کہ میں بندھا ہوا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ بِصَرُورَةٍ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي حَاجٌّ فَإِنَّ الْحَاجَّ هُوَ الْمُحْرِمُ " مُرْسَلٌ وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہے کہ میں بندھا ہوا ہوں، مسلمان بندھا ہوا نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی یہ کہے کہ میں حاجی ہوں، حاجی تو محرم ہوتا ہے۔