حدیث نمبر: 9769
وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقَالَ لِلْمُسْلِمِ: صَرُورَةٌ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ فَذَكَرَهُ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ مِنْ قَوْلِهِ وَنَفَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي رِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ يَلْطِمُ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَيَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ لَهُ دَعُوا الصَّرُورَةَ لِجَهْلِهِ وَإنْ رُمِيَ بِجَعْرِهِ فِي رِجْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ " وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: يَلْطِمُ وَجْهَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ: رُدُّوا صَرُورَةَ وَجْهِهِ وَلَوْ أَلْقَى سَلْحَهُ فِي رِجْلِهِ، ⦗٢٧٠⦘ وَرُوِيَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ تَارَةً، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ أَخِي جُبَيْرٍ، وَتَارَةً عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا صَرُورَةَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ”مسلمان کو «صَرُورٌ» (صرور) کہا جائے“، اسی کو سفیان بن عیینہ نے عمرو عکرمہ نے نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت کیا ہے۔ ابن جریج نے عکرمہ کا قول بنا کر نقل کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا نبی کریم ﷺ کا قول ہے اور ابن عیینہ وغیرہ کی روایت میں عکرمہ سے منقول ہے کہ آدمی جاہلیت میں دوسرے کو تھپڑ مارتا اور کہتا میں «صَرُورَةٌ» (بندھا ہوا) ہوں تو اس کو کہا جاتا: اس کی جہالت کے لیے بندھا رہنے دو، خواہ وہ اپنی لید اپنے پاؤں پر ہی مار لے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں «لَا صَرُورَةَ» (بندھا رہنا) نہیں ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آدمی اپنے چہرے پر مارتا، پھر کہتا کہ میں بندھا ہوا ہوں تو کہا جاتا: اس کے چہرے کو بندھا رہنے دو خواہ یہ اپنا گوبر اپنے پاؤں پر گرا لے۔
سیدنا نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ: ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے، «لَا صَرُورَةَ» (بندھنا) نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9769
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»