کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: بیت اللہ میں داخل ہونے اور اس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9718
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا بِعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحُوهُ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ "، قَالَ: " وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار ہو کر داخل ہوئے حتیٰ کہ اسے کعبہ کے صحن میں بٹھایا، پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے چابیاں منگوائیں، وہ لے کر آیا اور اس نے کعبہ کو کھولا تو نبی ﷺ، اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم داخل ہوئے اور انہوں نے تھوڑی دیر تک دروازہ بند کر لیا، پھر انہوں نے دروازہ کھولا تو میں جلدی سے آگے بڑھا تو بلال رضی اللہ عنہ کو دروازہ پر پایا۔ میں نے پوچھا: نبی ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگلے دو ستونوں کے درمیان، کہتے ہیں: میں یہ پوچھنا بھول ہی گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9718
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1329»
حدیث نمبر: 9719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، وَبِلَالٌ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا "، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى " لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ " وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: " عَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ " وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ كَمَا رُوِّينَا، وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ " عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ " وَهُوَ الصَّحِيحُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ، سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا عثمان بن طلحہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے اور دروازہ بند کر لیا اور اس میں ٹھہرے، جب نکلے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے ایک ستون اپنے بائیں اور دو دائیں کیے اور تین ستون کے پیچھے پھر نماز پڑھی۔ ان دنوں کعبہ کے چھ ستون ہوتے تھے۔ [صحیح: بخاری: 483، مسلم: 1329]
اسی کو امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے مگر اس نے کہا کہ دو ستون بائیں جانب رکھے۔
اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے ایک جگہ کہا ہے اور ایک جگہ کہا ہے کہ دوسرا ستون دائیں جانب اور ایک ستون بائیں جانب تھا۔
اسی طرح عبداللہ بن یوسف رحمہ اللہ نے اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے بواسطہ قعنبی رحمہ اللہ، ابن ابی اویس رحمہ اللہ اور یحییٰ بن بکیر رحمہ اللہ سب نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔
اسی طرح عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ دو ستون دائیں اور ایک ستون بائیں جانب اور یہی بات صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9719
حدیث نمبر: 9720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ بِلَالًا: " أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ " يَعْنِي فِي الْكَعْبَةِ فَأَرَاهُ بِلَالٌ حَيْثُ صَلَّى وَلَمْ يَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ، وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ ثُمَّ مَشَى حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ، ثُمَّ صَلَّى يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِلَالٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کعبہ میں کہاں نماز ادا کی ہے؟ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان کو دکھایا، جہاں آپ ﷺ نے نماز پڑھی تھی اور انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں؛ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آگے کو چلتے اور دروازہ اپنے پیچھے چھوڑ دیتے، پھر چلتے یہاں تک کہ ان کے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ذراع کا فاصلہ رہ جاتا، پھر نماز پڑھتے، وہ وہی جگہ تلاش کرتے تھے جہاں پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9720
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري1522»
حدیث نمبر: 9721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: وَقَالَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَرَدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ مِنَ الْحَجَبَةِ حَتَّى أَنَاخَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ بِمِفْتَاحِ الْبَيْتِ، فَفَتَحَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ أُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ فَمَكَثَ فِيهَا نَهَارًا طَوِيلًا، ثُمَّ خَرَجَ فَاسْتَبَقَ النَّاسُ فَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَوَجَدَ بِلَالًا وَرَاءَ الْبَابِ قَائِمًا فَسَأَلَهُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَشَارَ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى مِنْ سَجْدَةٍ؟ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ فتح والے دن مکہ کے بالائی حصہ سے اپنی اونٹنی پر آئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ردیف تھے، آپ ﷺ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے اور دربانوں میں سے عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے حتیٰ کہ مسجد میں اونٹنی کو بٹھایا اور اس کو بیت اللہ کی چابی لانے کو کہا، اس نے کھولا تو رسول اللہ ﷺ، اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم داخل ہوئے اور لمبے دن تک اس میں ٹھہرے، پھر نکلے تو لوگ جلدی سے آگے بڑھے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سب سے پہلے داخل ہوئے اور انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا تو ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں نماز پڑھی تھی، عبداللہ کہتے ہیں کہ میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9721
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1522»
حدیث نمبر: 9722
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ يَعْنِي مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَهُمُ اللهُ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ " قَالَ: فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عِمْرَانَ، وَحَدِيثُ الْقَاضِي مُخْتَصَرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، ثُمَّ نَزَلَ وَلَمْ يُصَلِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَالْقَوْلُ قَوْلُ مَنْ قَالَ: صَلَّى؛ لِأَنَّهُ شَاهِدٌ وَالَّذِي قَالَ: لَمْ يُصَلِّ لَيْسَ بِشَاهِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ آئے تو انہوں نے بیت اللہ میں اس وقت تک داخل ہونے سے انکار کر دیا جب تک اس میں بت رکھے ہیں، آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان بتوں کو نکالا گیا تو وہاں سے سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکلے جن کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی کے تیر تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ان کو ہلاک کرے، اللہ کی قسم! یہ لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے کبھی ان کے ساتھ قسمت آزمائی نہیں کی۔“ پھر آپ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس کے کونوں میں تکبیر کہی اور اس میں نماز نہیں پڑھی۔ یہ ابو عمران کی حدیث کے الفاظ ہیں اور قاضی کی حدیث مختصر ہے کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے، ان کے کونوں میں تکبیر کہی، پھر اترے اور نماز نہیں پڑھی۔
اور درست بات اسی کی ہے جس نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی ہے، کیونکہ وہ شاہد ہے اور جس نے یہ کہا ہے کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی وہ گواہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9722
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1524»
حدیث نمبر: 9723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَزْعُمُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ، وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَهُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ زَمَنَ الْفَتْحِ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا وَلَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بیت اللہ میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا اور اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ”کوئی انہیں بنائے“ اور نبی ﷺ نے بطحا ہی سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فتح والے سال حکم دیا کہ ”وہ کعبہ جائیں اور ہر تصویر مٹا ڈالیں جو اس میں ہے“ اور نبی ﷺ اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک کہ ساری تصویریں مٹا نہیں دی گئیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9723
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن حبان 5844۔ احمد 3/ 335۔ ابو يعلي 2244»
حدیث نمبر: 9724
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَوَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَمَرْيَمَ، فَقَالَ: " أَمَّا هُمْ فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرٌ فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ؟ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس میں ابراہیم (علیہ السلام) اور مریم (علیہا السلام) کی تصویریں پائیں تو فرمایا: ”انہوں نے سنا ہوا ہے کہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ان کو کیا ہوا ہے کہ وہ قسمت آزمائی کر رہے ہیں؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9724
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3173»
حدیث نمبر: 9725
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ مُحَيْصِنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَخَلَ الْبَيْتَ دَخَلَ فِي حَسَنَةٍ وَخَرَجَ مِنْ سَيِّئَةٍ وَخَرَجَ مَغْفُورًا لَهُ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَلَيْسَ بِقَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا وہ نیکی میں داخل ہوا اور برائی سے نکلا اور اس حال میں نکلا کہ اسے بخش دیا گیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9725
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن خزيمه 3013۔ طبراني كبير 1149»
حدیث نمبر: 9726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ، بِتِنِّيسَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، كَانَتْ تَقُولُ: " عَجَبًا لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ كَيْفَ يَرْفَعُ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّقْفِ يَدَعُ ذَلِكَ إِجْلَالًا لِلَّهِ وَإِعْظَامًا؟ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ مَا خَلَّفَ بَصَرُهُ مَوْضِعَ سُجُودِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مسلمان آدمی پر تعجب ہے کہ وہ جب کعبہ میں داخل ہوتا ہے تو کیسے اپنی نگاہ چھت کی طرف اٹھاتا ہے، وہ اسے اللہ کی جلالت و عظمت کی خاطر چھوڑ دے، نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنی نگاہ سجدہ والی جگہ سے نہ ہٹائی حتیٰ کہ وہاں سے نکل گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9726
درجۂ حدیث محدثین: باطل
تخریج حدیث «باطل۔ حاكم 1/ 652۔ ابن خزيمه3012»
حدیث نمبر: 9727
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قِرَاءَةً قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ⦗٢٥٩⦘ كُلُّ نِسَائِكَ قَدْ دَخَلْنَ الْبَيْتَ غَيْرِي، قَالَ: فَاذْهَبِي إِلَى ذِي قَرَابَتِكِ فَلْيَفْتَحْ لَكِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَفْتَحَ لِي، قَالَتْ: فَاحْتَمَلَ الْمَفَاتِيحَ ثُمَّ ذَهَبَ مَعَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا فَتَحْتُ الْبَابَ بِلَيْلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلَا فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: إِنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْبَيْتَ قَصُرَتْ بِهُمُ النَّفَقَةُ فَتَرَكُوا بَعْضَ الْبَيْتِ فِي الْحِجْرِ فَاذْهَبِي فَصَلِّي فِي الْحِجْرِ رَكْعَتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے کہا: میرے سوا آپ کی تمام ازواج بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے رشتہ داروں کے پاس جا، وہ تیرے لیے بھی دروازہ کھول دیں گے۔“ کہتی ہیں کہ میں گئی اور کہا کہ نبی ﷺ آپ کو حکم دیتے ہیں میرے لیے دروازہ کھولو۔ تو انہوں نے چابیاں اٹھائیں اور ان کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس پہنچا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم، بیت اللہ کا دروازہ رات کے وقت نہ تو جاہلیت میں کھولا گیا ہے اور نہ اسلام میں۔ تو آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: ”تیری قوم نے جب بیت اللہ تعمیر کیا تو ان کے پاس خرچہ کم ہو گیا، تو انہوں نے بیت اللہ کا کچھ حصہ منڈیر میں چھوڑ دیا، تو وہاں جا اور دو رکعتیں پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9727
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ احمد 6/ 67۔ طبراني اوسط 7098۔ ابوداود 2028۔ ترمذي 876»