حدیث نمبر: 9701
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟ " فَقَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فَمَنِ الْقَوْمُ؟ فَقَالَ: " رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفَّةٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلِهَذَا حَجٌّ، قَالَ: " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ "، ⦗٢٥٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ لوٹے، جب روحاء پہنچے تو ایک قافلہ آپ کو ملا، آپ ﷺ نے انہیں سلام کہا اور پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، آپ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ ہوں“، تو ایک عورت نے ایک بچے کو پنگورے سے اٹھایا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور تیرے لیے اجر ہے“۔
حدیث نمبر: 9702
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي مِحَفَّتِهَا فَقِيلَ لَهَا: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ كَانَ مَعَهَا، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ، فَقَالَ: " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ " هَكَذَا رَوَاهُ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ مَوْصُولًا، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ الزَّعْفَرَانِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ مُنْقَطِعًا دُونَ ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مَالِكٍ مُنْقَطِعًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ مُنْقَطِعًا، وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے، وہ اپنے ہودج میں تھی تو اسے بتایا گیا کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں، اس نے ایک بچے کا بازو پکڑا جو اس کے ساتھ تھا اور کہا: ”کیا اس کا حج ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور تیرے لیے اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 9703
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ ابْنًا لَهَا فِي مِحَفَّةٍ تُرْضِعُهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ لَكِ أَجْرٌ " أَوْ كَمَا قَالَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں ایک عورت نے دودھ پیتے بچے کو ہودج سے بلند کیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کے لیے حج ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اور تیرے لیے اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 9704
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيًّا، فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی ﷺ کی طرف ایک بچے کو اٹھایا اور پوچھا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اور تیرے لیے اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 9705
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا ⦗٢٥٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ كَلَّمَتْهُ امْرَأَةٌ فِي مِحَفَّةٍ لَهَا وَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَرَفَعَتْهُ فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لَهُ حَجٌّ وَلَكِ أَجْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس دوران کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے راستے میں چل رہے تھے، ایک عورت اپنے خیمے سے آپ ﷺ سے مخاطب ہوئی اور بچے کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے حج ہے اور تیرے لیے اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 9706
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي الزُّهْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَهِيَ فِي مِحَفَّتِهَا وَمَعَهَا صَبِيٌّ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے اور وہ اپنے ہودج میں تھی اور اس کے پاس بچہ تھا تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور تیرے لیے اجر ہے۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنا بچہ ہودج سے بلند کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اور تیرے لیے اجر ہے۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنا بچہ ہودج سے بلند کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اور تیرے لیے اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 9707
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، ثنا مُعَاذٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اور ابن مہدی رحمہ اللہ سے سلمان نے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدیث نمبر: 9708
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ لَيْسَ فِيهِ مِنْ مِحَفَّةٍ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَعَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
لیکن سفیان رحمہ اللہ کی روایت میں ”ہودج“ کا ذکر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9709
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچہ نبی ﷺ کے حج کے دوران اٹھایا اور کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور تیرے لیے اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 9710
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْجُعَيْدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ لِي السَّائِبُ: " كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدًّا وَثُلُثَ مُدِّكُمُ الْيَوْمَ، فَزِيدَ فِيهِ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ " قَالَ السَّائِبُ: وَحُجَّ بِي فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ.
حافظ ثناء اللہ
جعید بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ کے دور میں صاع تمہارے آج کے صاع کے حساب سے ایک اور ثلث مد کا تھا، پھر اس میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں اضافہ کیا گیا ہے، سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے اہل بیت کے ساتھ مجھے بھی حج پر لے جایا گیا جب کہ میں بچہ تھا۔
حدیث نمبر: 9711
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ "، ⦗٢٥٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے نبی ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر حج کروایا گیا جب کہ میں سات سال کا تھا۔
حدیث نمبر: 9712
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ، أَوْ فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَصَلَّيْنَا وَرَمَيْنَا قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَنَا النَّاسُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعْمَانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے نبی ﷺ نے کمزوروں کے ساتھ مزدلفہ سے رات کے وقت بھیجا تو ہم نے نماز ادا کی اور لوگوں کے آنے سے پہلے رمی کی۔
حدیث نمبر: 9713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَدَادِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا عَنِ الْوِلْدَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے، حتیٰ کہ ہم ذو الحلیفہ پہنچے تو ہم نے حج کا تلبیہ کہا اور بچوں کی طرف سے بھی تلبیہ کہا۔
حدیث نمبر: 9714
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمِهْرَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ السِّخْتِيَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّرَّاجُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَلَبَّيْنَا عَنِ الصِّبْيَانِ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کیا اور ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے تھے تو ہم نے بچوں کی طرف سے تلبیہ بھی کہا اور رمی بھی کی۔
حدیث نمبر: 9715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الصَّقْرِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا سَعْدَوَيْهِ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرَهُ أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الحسن بن عبدان نے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے انہی الفاظ میں روایت بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 9716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا مِنِّي مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأَسْمِعُونِيُّ مَا تَقُولُونَ وَلَا تَذْهَبُوا فَتَقُولُوا: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَلْيَطُفْ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ وَلَا تَقُولُوا: الْحَطِيمُ فَإِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَحْلِفُ فَيُلْقِي سَوْطَهُ، أَوْ نَعْلَهُ، أَوْ قَوْسَهُ، وَأَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ بِهِ أَهْلُهُ فَقَدْ قَضَتْ حَجَّتُهُ عَنْهُ مَا دَامَ صَغِيرًا، فَإِذَا بَلَغَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، وَأَيُّمَا عَبْدٍ حَجَّ بِهِ أَهْلُهُ، فَقَدْ قَضَتْ عَنْهُ حَجَّتُهُ مَا دَامَ عَبْدًا فَإِذَا عَتَقَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقِ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ ⦗٢٥٦⦘ وَقَدْ رُوِّينَا فِيمَا مَضَى حَدِيثَ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا ومَرْفُوعًا فِي حَجِّ الصَّبِيِّ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگو! جو میں کہتا ہوں وہ سنو اور جو تم کہتے ہو وہ مجھے سناؤ اور جا کر یہ نہ کہنا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہہ دیا ہے، جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے، وہ منڈیر کے پیچھے سے طواف کرے اور تم «الحَطِيمُ» (حطیم) نہ کہو؛ کیوں کہ آدمی جاہلیت میں قسم اٹھاتا اور اپنا کوڑا یا جوتا یا کمان پھینک دیتا تھا، اور جس بھی بچے کو اس کے گھر والے حج کرائیں تو جب تک وہ چھوٹا ہے اس کا حج ادا ہو چکا، لیکن جونہی بالغ ہوا تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے، اور جس غلام کو اس کے مالک حج کروائیں تو جب تک وہ غلام ہے اس کا حج اس کو کفایت کرے گا، لیکن جونہی وہ آزاد ہوا تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث عبداللہ بن محمد از سفیان کے واسطہ سے نقل کی ہے، لیکن وہ پوری نہیں ہے اور ہمیں گزشتہ روایات میں ابو ظبیان کے واسطہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بچے وغیرہ کے حج کے بارے میں مرفوعاً بھی اور موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث عبداللہ بن محمد از سفیان کے واسطہ سے نقل کی ہے، لیکن وہ پوری نہیں ہے اور ہمیں گزشتہ روایات میں ابو ظبیان کے واسطہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بچے وغیرہ کے حج کے بارے میں مرفوعاً بھی اور موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 9717
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ " أَنَّ غُلَامًا مِنْ قُرَيْشٍ قَتَلَ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ فَأَمَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُفْدَى عَنْهُ بِشَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قریشی بچے نے مکہ کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر قتل کر دیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے ایک بکری فدیہ میں دینے کو کہا۔