کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان شواہد کا بیان جن سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اس (بیت اللہ) میں داخل ہونا واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَتِهِ الْبَيْتَ؟ قَالَ: لَا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن خالد فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی ﷺ اپنے عمرے کے دوران بیت اللہ میں داخل ہوئے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔
حدیث نمبر: 9729
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي الصِّفَيْرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ وَهُوَ حَزِينٌ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي بَعْدِي، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يَكُونُ فِي حَجَّتِهِ وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي أَوْفَى فِي عُمْرَتِهِ فَلَا يَكُونُ أَحَدُهُمَا مُخَالِفًا لِلْآخَرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے نکلے اور آپ ﷺ خوش و خرم تھے اور جب واپس لوٹے تو غمزدہ تھے، تو میں نے پوچھا: آپ ﷺ جاتے ہوئے تو اس اس طرح گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کعبہ میں داخل ہوا تھا اور اب سوچتا ہوں کہ کاش ایسا نہ کرتا، مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دیا ہے۔“
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حج کی بات ہوگی اور ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ والی حدیث عمرہ کے بارے میں ہے، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔
شیخ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حج کی بات ہوگی اور ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ والی حدیث عمرہ کے بارے میں ہے، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔