کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: منیٰ میں پڑاؤ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9608
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَأَنْزَلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ، فَقَالَ: " لِيَنْزِلِ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا " وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ " وَالْأَنْصَارُ هَا هُنَا " وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ " ثُمَّ يَنْزِلُ النَّاسُ حَوْلَهُمْ " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي عَنْ رَجُلٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّى كُنَّا نَسْمَعُ مَا يَقُولُ، وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا وَطَفِقَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: " بِحَصَى الْخَذْفِ " ثُمَّ أَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَنَزَلُوا مُقَدَّمَ الْمَسْجِدِ وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ أَنْ يَنْزِلُوا مِنْ وَرَاءِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ النَّاسُ بَعْدُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَارِثِ فَذَكَرَهُ. وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ لَهُ صُحْبَةٌ وَزَعَمُوا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ لَمْ يُدْرِكْهُ، وَأَنَّ رِوَايَتَهُ عَنْهُ مُرْسَلَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ وَغَيْرِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَى يَسَارِ مُصَلَّى الْإِمَامِ بِمِنًى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبدالرحمن بن معاذ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کسی شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے لوگوں سے منیٰ میں خطاب فرمایا اور ان کو ان کی جگہوں پر اتارا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجر یہاں پڑاؤ کریں“ اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ کیا اور فرمایا: ”اور انصار یہاں“ اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ کیا، پھر لوگ ان کے اردگرد اترے۔
اس روایت کو اسی طرح میں نے اپنی کتاب میں «عَنْ رَجُلٍ» ہی پایا ہے۔
(ب) امام ابوداود رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی، عبدالرحمن بن معاذ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا جب کہ ہم منیٰ میں تھے، ہماری سماعت تیز ہوگئی حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ جو فرماتے ہم (صحیح صحیح) سن رہے تھے، حالاں کہ ہم اپنی اپنی جگہوں (مقامات) پر تھے اور رسول اللہ ﷺ انھیں ان کے حج کے طریقے سکھا رہے تھے حتیٰ کہ جمرہ کے قریب پہنچ گئے۔ آپ ﷺ نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو رکھا پھر کنکری پھینک کر بتایا، پھر مہاجرین کو حکم دیا تو وہ مسجد کے سامنے والے حصے میں اترے اور انصار کو حکم دیا کہ وہ مسجد کی پچھلی طرف اتریں، فرماتے ہیں کہ پھر اس کے بعد باقی لوگوں نے بھی پڑاؤ ڈال دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9608
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداود 1951۔ احمد 4/ 161»
حدیث نمبر: 9609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بِنَاءً يُظِلُّكَ؟، قَالَ: " لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم آپ ﷺ کے لیے منیٰ میں عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں! منیٰ ہر اس کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ گیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9609
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابوداود 3019»
حدیث نمبر: 9610
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: عَدَلَ إِلِيَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهََا، فَقَالَ: هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهَا، فَقَالَ: هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لَا مَا أَنْزَلَنِي غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى " وَنَفَحَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ " فَإِِنَّ هُنَالِكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرُرُ بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا ".
حافظ ثناء اللہ
عمران انصاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری طرف آئے اور میں مکہ کے راستے میں آرام گاہ کے نیچے تھا تو انہوں نے کہا: ”اس آرام گاہ کے نیچے تجھے کس نے اتارا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں سایہ لینے آیا ہوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”اس کے علاوہ؟“ میں نے کہا: ”صرف سائے کے لیے ہی آیا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اس کے علاوہ؟“ میں نے کہا: ”کچھ نہیں، اس کے علاوہ ادھر آنے کا اور کوئی مقصد نہیں۔“ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تو منیٰ سے ان دو ٹیلوں کے درمیان ہو“ (اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا) ”تو وہاں پر ایک وادی ہے جس کو «سَرَر» کہا جاتا ہے، وہاں ایک آرام گاہ ہے جس کے نیچے ستر نبیوں نے آرام کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9610
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ نسائي 1995۔ ترمذي 881»