کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ پڑھنے اور پھر اسے روک دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَفِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، وَكَذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کو رمی کی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس تھا، پس آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔
حدیث نمبر: 9603
وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرِ بْنُ خُزَيْمَةَ، أنبأ جَدِّي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ بِأَوَّلِ حَصَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کو دیکھتا رہا، آپ ﷺ جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔
حدیث نمبر: 9604
وَأَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ مَعَ آخِرِ حَصَاةٍ قَالَ الشَّيْخُ: تَكْبِيرُهُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ كَالدِّلَالَةِ عَلَى قَطْعِهِ التَّلْبِيَةَ بِأَوَّلِ حَصَاةٍ، كَمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَقَوْلُهُ: يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ أَرَادَ بِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ، وَأَمَّا مَا فِي رِوَايَةِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الزِّيَادَةِ فَإِنَّهَا غَرِيبَةٌ أَوْرَدَهَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَاخْتَارَهَا وَلَيْسَتْ فِي الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُورَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ عرفات سے لوٹا اور آپ ﷺ جمرہ عقبہ کو رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے، آپ ﷺ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے۔ پھر آخری کنکری کے ساتھ تلبیہ ختم کیا۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول: «يُلَبِّي» ”کہ وہ تلبیہ کہتے“ حتیٰ کہ رمی جمار کر لیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے: «حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ» ”حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ کی رمی شروع کر دی“
اور باقی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے، پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے، لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا پہلی کنکری کے ساتھ تلبیہ کے ختم کرنے پر دلالت کرتا ہے، جیسا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں روایت کیا ہے اور ان کا قول: «يُلَبِّي» ”کہ وہ تلبیہ کہتے“ حتیٰ کہ رمی جمار کر لیتے، اس سے ان کی مراد یہ ہے: «حَتَّى أَخَذَ فِي رَمْيِ الْجَمْرَةِ» ”حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ کی رمی شروع کر دی“
اور باقی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما والی روایت میں جو اضافہ ہے وہ غریب ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہنا تلبیہ قطع کرنے پر دلالت کرتا ہے، پہلی کنکری پر ہی جیسا کہ حدیث سے واضح ہوتا ہے، لیکن جو دوسری روایت کے آخر میں جو الفاظ زائد ہیں یہ تو انوکھے ہی ہیں۔
حدیث نمبر: 9605
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، قَالَ: غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ رَجُلًا آدَمَ لَهُ ضَفِيرَتَانِ عَلَيْهِ مِسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَكَانَ يُلَبِّي فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ فَقَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ التَّكْبِيرُ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلِيَّ، فَقَالَ: " جَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ " وَقَدْ رُوِّينَا مَعْنَى هَذَا مُخْتَصَرًا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن سخبرہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ تک گیا اور عبداللہ گندم گوں رنگ کے آدمی تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں، ان پر اہل بادیہ والی چادر تھی اور وہ تلبیہ کہہ رہے تھے کہ لوگوں کا ایک جمگٹھا آپ کے پاس جمع ہوا تو انہوں نے کہا: اے اعرابی! یہ تلبیہ کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ تو تکبیرات کا دن ہے، تو اس وقت انہوں نے میری طرف جھانکا اور فرمایا: لوگ یا تو جاہل ہیں یا بھول گئے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفہ کی طرف نکلا تو آپ ﷺ نے جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ منقطع نہ فرمایا، درمیان میں تکبیر و تہلیل بھی کہہ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 9606
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَلَمَّا قَذَفَهَا أَمْسَكَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، فَقَالَ: " رَأَيْتُ أَبِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹا تو میں انہیں تلبیہ کہتے ہوئے ہی سنتا رہا حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ جب اس کی طرف پتھر پھینکا تو خاموش ہو گئے تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کو جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے ہوئے دیکھا ہے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ”نبی ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 9607
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ قَدْ مَضَى ذِكْرُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ ہم صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے نقل کرچکے ہیں اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔