کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) سے احرام کی جو پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 9590
أَخْبَرَنَا ٥ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ بِعَرَفَةَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِ الْحَجِّ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " إِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَدَفَعْتُمْ مِنْ جَمْعٍ فَمَنْ رَمَى جَمْرَةَ الْقُصْوَى الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ لَهُ، ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ إِلَّا طِيبًا أَوْ نِسَاءً، فَلَا يَمَسَّ أَحَدٌ طِيبًا وَلَا نِسَاءً حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عرفہ میں خطبہ دیا اور ان کو مناسکِ حج بتائے اور اس دوران یہ بات بھی کہی کہ صبح کو «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ تم جمع سے لوٹو گے، تو جس نے جمرہ قصویٰ جو کہ عقبہ کے پاس ہے اس کی سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی، پھر آکر اس نے قربانی کی، اگر اس کے پاس ہے، تو پھر اس نے سر منڈوایا یا بال کٹوائے تو اس کے لیے وہ تمام کچھ حلال ہوجائے گا جو حج کی وجہ سے حرام تھا، عورتوں اور خوشبو کے سوا؛ لہٰذا کوئی بھی نہ تو خوشبو کو چھوئے نہ عورتوں کو حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لے۔
حدیث نمبر: 9591
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَذَبَحْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ " قَالَ سَالِمٌ وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ "، قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْنِي لِحِلِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب تم جمرہ کو سات کنکریاں مار لو اور ذبح کرلو اور سر منڈا لو تو تمہارے لیے عورتوں اور خوشبو کے علاوہ باقی سب حلال ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ محرم کے لیے عورتوں کے سوا سب کچھ حلال ہو جاتا ہے اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی، وہ آپ ﷺ کے حلال ہونے کو مراد لے رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 9592
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ، وَإِحْرَامِهِ " قَالَ سَالِمٌ: " وَسُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، حِل کے لیے بھی اور احرام کے لیے بھی۔ سالم کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی سنت اتباع کرنے کی زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 9593
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ مَضَى فِي أَوَائِلِ هَذَا الْكِتَابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی ﷺ کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگاتی احرام کے وقت اور حلال ہونے کے لیے طوافِ بیت اللہ سے پہلے۔
حدیث نمبر: 9594
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ⦗٢٢٢⦘ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمَ، يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے نبی ﷺ کو اپنے ہاتھوں سے حجۃ الوداع کے موقع پر حل اور احرام کے لیے بذیرہ خوشبو لگائی۔
حدیث نمبر: 9595
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ وَيَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی اور یومِ نحر کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے، ایسی خوشبو جس میں کستوری تھی۔
حدیث نمبر: 9596
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَلْتُمْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ كَانَ عَلَيْكُمْ حَرَامًا إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ "، فَقَالَ رَجُلٌ: وَالطِّيبُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ؟، فَقَالَ لَهُ: " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ هُوَ أَمْ لَا؟ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب تم جمرہ کی رمی کر لو تو تم ہر اس چیز کے لیے حلال ہو جو تم پر حرام تھی، عورتوں کے سوا حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لو، ایک آدمی نے کہا: اے ابوالعباس! اور خوشبو؟ انہوں نے اس کو جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے وہ سر پر کستوری لگاتے تھے تو کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 9597
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمُ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ وَكُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم رمی کرلو اور سر منڈالو تو تمہارے لیے خوشبو اور کپڑے اور ہر چیز حلال ہے، عورتوں کے سوا۔“
حدیث نمبر: 9598
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، فَزَادَ فِيهِ: " وَذَبَحْتُمْ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ إِلَّا النِّسَاءَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ السِّقَاءِ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَهُ، قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا مِنْ تَخْلِيطَاتِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، وَإِنَّمَا الْحَدِيثُ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا رَوَاهُ سَائِرُ النَّاسِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
اور فرماتے ہیں: «عَنِ النَّبِيِّ ﷺ» ”نبی ﷺ سے“ اور یہ (حدیث) حجاج بن ارطاۃ کی خلط ملط روایات میں سے ہے، اور «عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ» ”عمرہ سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور وہ نبی ﷺ سے“ حدیث اسی طرح ہے جس طرح باقی سارے لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
اور فرماتے ہیں: «عَنِ النَّبِيِّ ﷺ» ”نبی ﷺ سے“ اور یہ (حدیث) حجاج بن ارطاۃ کی خلط ملط روایات میں سے ہے، اور «عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ» ”عمرہ سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور وہ نبی ﷺ سے“ حدیث اسی طرح ہے جس طرح باقی سارے لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9599
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَأُمُّ أَبِي الرِّجَالِ هِيَ عَمْرَةُ، وَقَدْ رُوِيَتْ تِلْكَ اللَّفْظَةُ فِي حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ مَعَ حُكْمٍ آخَرَ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْفُقَهَاءِ يَقُولُ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام کے لیے خوشبو لگائی جب آپ ﷺ نے احرام باندھا اور حلال ہونے کے لیے طوافِ افاضہ سے پہلے، جو بھی خوشبو مجھے دستیاب ہوئی۔
حدیث نمبر: 9600
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، وَأُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَدُورُ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ لَيْلَةِ النَّحْرِ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، وَرَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَضْتُمَا؟ " قَالَا: لَا، قَالَ: " فَانْزِعَا قَمِيصَكُمَا " فَنَزَعَاهَا، فَقَالَ لَهُ وَهْبٌ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " هَذَا يَوْمٌ أُرَخِّصُ لَكُمْ فِيهِ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ وَنَحَرْتُمْ هَدْيًا إِنْ كَانَ لَكُمْ فَقَدْ حَلَلْتُمْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ وَلَمْ تُفِيضُوا صِرْتُمْ حُرُمًا كَمَا كُنْتُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى تَطُوفُوا بِالْبَيْتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نحر والی رات رسول اللہ ﷺ کی باری میرے پاس تھی تو میرے پاس وہب بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور ابن امیہ کا ایک اور آدمی آیا، انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، ان دونوں سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی یہ قمیصیں اتار دو۔“ تو انہوں نے اتار دیں۔ وہب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کس وجہ سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی ہے کہ جب تم رمی کر لو اور اگر قربانی ہے تو وہ بھی کر لو تو پھر تم ہر چیز سے حلال ہو جو تم پر حرام ہوئی تھی عورتوں کے علاوہ حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لو، تو جب شام ہو جائے اور تم نے افاضہ نہ کیا ہو تو تم پھر محرم بن جاؤ گے جیسے کہ تم پہلے تھے، حتیٰ کہ طوافِ افاضہ کر لو۔“
حدیث نمبر: 9601
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ يُحَدِّثَانِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلِيَّ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ فَصَارَ إِلِيَّ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: " هَلْ أَفَضْتَ أَبَا عَبْدِ اللهِ؟ " قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ " فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ، قَالَا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ صِرْتُمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا " قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ، قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينِ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً أَوْ قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَّاشَةُ مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينِ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: خَيْرٌ يَا أُمَّ قَيْسٍ كَانَ هَذَا يَوْمًا رَخَّصَ ⦗٢٢٤⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ جَعَلْنَا قُمُصَنَا عَلَى أَيْدِينَا، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ دُونَ الْإِسْنَادِ الثَّانِي، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الذَّبْحَ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یومِ نحر کی شام کو رسول اللہ ﷺ کی میرے گھر باری تھی، آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور وہب بن زمعہ اور آلِ ابی امیہ کا ایک شخص قمیص پہنے ہوئے داخل ہوئے تو نبی ﷺ نے وہب سے پوچھا: ”ابوعبداللہ! کیا تو نے افاضہ کر لیا ہے؟“ کہنے لگا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قمیص اتار دے۔“ تو اس نے سر کی جانب سے اتار دی اور اس کے ساتھی نے بھی۔ ان دونوں نے کہا: اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم رمیِ جمار کر لو تو ہر وہ چیز جو تم پر حرام تھی تمہارے لیے عورتوں کے سوا حلال ہو جائے گی۔ لیکن جب شام ہو جائے اور بیت اللہ کا طواف ابھی تک نہ کیا ہو تو تم پہلے کی طرح پھر حرام ہو جاؤ گے، جس طرح تم رمیِ جمار کرنے سے پہلے تھے، حتیٰ کہ طواف کر لو۔“
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں، فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ یومِ النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے عکاشہ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: خیریت ہے اے ام قیس! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی تھی کہ ”جب ہم رمیِ جمار سے فارغ ہو جائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہو گئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں، پس جب شام ہو گئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔“
اسی طرح اس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انہوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی اور وہ ان کی پڑوسن تھیں، فرماتی ہیں کہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ یومِ النحر کی شام میرے پاس سے بنو اسد کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے، ان سب نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، پھر جب عشاء کے وقت میرے پاس واپس لوٹے تو وہ اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے عکاشہ! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم قمیصیں پہن کر گئے تھے لیکن جب واپس پلٹے ہو تو اپنی قمیصوں کو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: خیریت ہے اے ام قیس! یہ وہ دن تھا جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی تھی کہ ”جب ہم رمیِ جمار سے فارغ ہو جائیں تو ہر وہ چیز ہمارے لیے حلال ہو گئی تھی جو ہم پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ کا طواف نہ کر لیں، پس جب شام ہو گئی جب کہ ہم نے بیت اللہ کا طواف (ابھی تک) نہیں کیا تھا تو ہم نے قمیصوں کو اتار کر ہاتھوں میں رکھ لیا ہے۔“
اسی طرح اس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کتاب السنن میں احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ سے پہلی سند کے ساتھ روایت کیا ہے نہ کہ دوسری سند کے ساتھ ام قیس سے اور انہوں نے بھی (اسی طرح) ذبح (قربانی) کا ذکر نہیں کیا۔