کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یومِ ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو منیٰ کی طرف روانہ ہونے، اور اگلے دن تک وہاں قیام کرنے اور پھر صبح کے وقت وہاں سے عرفہ کی طرف جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ ⦗١٨١⦘ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے حج کا واقعہ سنایا اور فرمایا: پھر سارے لوگ حلال ہو گئے اور انہوں نے بال کٹوائے، سوائے نبی ﷺ اور اس شخص کے جس کے پاس قربانی تھی، تو جب ترویہ کا دن تھا اور وہ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے حج کا تلبیہ کہا، رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی اور عصر بھی اور مغرب و عشاء بھی اور صبح بھی، پھر تھوڑی دیر تک ٹھہرے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا اور آپ ﷺ نے بالوں کے قبہ کا حکم دیا، اس کو نمرہ میں لگایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ چلے اور قریش کو اس میں کوئی شک نہیں تھا مگر یہ کہ آپ ﷺ مشعرِ حرام کے پاس ٹھہرنے والے ہیں، جس طرح قریش جاہلیت میں کرتے تھے، تو آپ ﷺ وہاں سے آگے بڑھ گئے حتیٰ کہ عرفہ آئے اور دیکھا کہ قبہ نمرہ میں لگایا گیا تھا، آپ ﷺ وہیں اترے۔
حدیث نمبر: 9439
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: " بِمِنًى "، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: " بِالْأَبْطَحِ " ثُمَّ قَالَ: " افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جس کو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سیکھا ہو کہ انہوں نے ترویہ کے دن ظہر کہاں ادا کی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے کہا: عصر کوچ کے دن، کہا: پڑھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں، پھر کہا: ویسے ہی کر جیسے تیرے امراء کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9440
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُو مِنْ مِنًى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِلَى عَرَفَةَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَحَدِيثُ الشَّافِعِيِّ مُخْتَصَرٌ فِي الْغُدُوِّ فَقَطْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں منیٰ میں پڑھتے، پھر جب سورج طلوع ہوتا تو عرفہ جاتے۔