أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ إِمْلَاءً فِي مَسْجِدِ رَجَاءِ بْنِ مُعَاذٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيُّ لَا تُؤْذِ الضَّعِيفَ إِذْ أَرَدْتَ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ، فَإِنْ خَلَا لَكَ فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ وَكَبِّرْ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! تو قوی آدمی ہے، کمزور کو تکلیف نہ دے، جب تو حجر اسود کو چھونا چاہے تو اگر جگہ خالی ہو تو استلام کر لے، وگرنہ اس کی طرف متوجہ ہو اور تکبیر کہہ۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: وَكَانَ اسْتَخْلَفَهُ الْحَجَّاجُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ رَجُلًا شَدِيدًا وَكَانَ يُزَاحِمُ عِنْدَ الرُّكْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ لَا تُزَاحِمْ عِنْدَ الرُّكْنِ فَإِنَّكَ تُؤْذِي الضَّعِيفَ فَإِنْ رَأَيْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ وَكَبِّرْ وَامْضِ " رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْخُزَاعِيِّ. قَالَ سُفْيَانُ: وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ كَانَ الْحَجَّاجُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْهَا مُنْصَرَفَهُ مِنْهَا وَهُوَ شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ.
حافظ ثناء اللہ
ابویعفور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خزیمہ کے ایک بزرگ کو حجاج نے مکہ پر نائب مقرر کیا تھا۔ اس نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سخت آدمی تھے اور رکن پر مزاحمت کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا: ”اے عمر! رکن کے پاس مزاحمت نہ کر، تو ضعیف کو تکلیف دیتا ہے۔ اگر تو خالی جگہ دیکھے تو استلام کر، وگرنہ تکبیر کہہ اور چلتا جا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " " كَيْفَ صَنَعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ؟ " " قَالَ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ، قَالَ: " " أَصَبْتَ " " ⦗١٣١⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " " أَصَبْتَ " " أَنَّهُ وَصَفَ لَهُ أَنَّهُ اسْتَلَمَ فِي غَيْرِ زِحَامٍ، وَتَرَكَ فِي زِحَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”اے ابو محمد! تو کیسے کرتا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: استلام بھی کرلیتا ہوں اور کبھی چھوڑ بھی دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو درست کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے عبدالرحمن سے کہا: ”تو نے درست کیا“، ان کی تعریف اس لیے کی کہ انہوں نے بھیڑ کے علاوہ استلام کیا اور بھیڑ میں چھوڑ دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے عبدالرحمن سے کہا: ”تو نے درست کیا“، ان کی تعریف اس لیے کی کہ انہوں نے بھیڑ کے علاوہ استلام کیا اور بھیڑ میں چھوڑ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ عَلَى الرُّكْنِ زِحَامًا فَانْصَرِفْ وَلَا تَقِفْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رکن پر بھیڑ ہو تو چلا جا، وہاں نہ رک۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ الْفَقِيهُ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ الضَّالُّ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِنَّمَا أُمِرْتُمْ أَنْ تَطُوفُوا، فَإِنْ تَيَسَّرَ عَلَيْكُمْ فَتَسْتَلِمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”تمہیں طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر میسر آئے تو استلام کرلو۔“
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِذَا حَاذَيْتَ بِهِ فَكَبِّرْ، وَادْعُ، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب تو اس کے برابر ہو جائے تو تکبیر کہہ، دعا مانگ اور محمد ﷺ پر درود پڑھ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَرَوْحٌ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُهُ زَاحَمَ عَلَى الْحَجَرِ قَطُّ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ مَرَّةً زَاحَمَ حَتَّى رُثِمَ أَنْفُهُ وَابْتَدَرَ مِنْخَرَاهُ دَمًا ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حجر اسود پر بھیڑ کرتے کبھی نہیں دیکھا، ایک مرتبہ دیکھا تھا انہوں نے بھیڑ میں حصہ لیا حتیٰ کہ ناک سرخ ہو کر سوج گئی اور خون بہنے لگا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ مَنْبُوذِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا مَوْلَاةٌ لَهَا فَقَالَتْ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ طُفْتُ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَاسْتَلَمْتُ الرُّكْنَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " لَا أَجَرَكِ اللهُ لَا أَجَرَكِ اللهُ تُدَافِعِينَ الرِّجَالَ، أَلَا كَبَّرْتِ وَمَرَرْتِ؟ " ⦗١٣٢⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ: " إِذَا وَجَدْتُنَّ فُرْجَةً مِنَ النَّاسِ فَاسْتَلِمْنَ وَإِلَّا فَكَبِّرْنَ وَامْضِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
منبوذ بن ابی سلیمان فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ ان کی ایک غلام عورت آئی اور کہنے لگی: اے ام المؤمنین! میں نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے ہیں اور رکن کا استلام صرف دو مرتبہ کیا ہے یا تین مرتبہ، تو انہوں نے کہا: اللہ تیرا بھلا کرے، تو مردوں کے ساتھ دھکم پیل کرتی رہی ہے؟ تو تکبیر کہہ کر کیوں نہیں گزر گئی۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں سے کہتے تھے، جب انہیں لوگوں سے آسانی ہو (بھیڑ نہ ہو) تو وہ استلام کر لیں، وگرنہ تکبیر کہیں اور گزر جائیں۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ان عورتوں سے کہتے تھے، جب انہیں لوگوں سے آسانی ہو (بھیڑ نہ ہو) تو وہ استلام کر لیں، وگرنہ تکبیر کہیں اور گزر جائیں۔