حدیث نمبر: 9263
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " " كَيْفَ صَنَعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ؟ " " قَالَ: اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ، قَالَ: " " أَصَبْتَ " " ⦗١٣١⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ هِشَامٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: " " أَصَبْتَ " " أَنَّهُ وَصَفَ لَهُ أَنَّهُ اسْتَلَمَ فِي غَيْرِ زِحَامٍ، وَتَرَكَ فِي زِحَامٍ.
حافظ ثناء اللہ

عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”اے ابو محمد! تو کیسے کرتا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: استلام بھی کرلیتا ہوں اور کبھی چھوڑ بھی دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو درست کرتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے عبدالرحمن سے کہا: ”تو نے درست کیا“، ان کی تعریف اس لیے کی کہ انہوں نے بھیڑ کے علاوہ استلام کیا اور بھیڑ میں چھوڑ دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9263
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن حبان 3823»